خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 574

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۴ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ طرح ان کا اچھا انجام ہوا خیر کے ساتھ ان کا خاتمہ ہوا اللہ تعالیٰ ان کو ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے اور بہت پیار کرے اور اپنے فدائی اور محبوب بندوں کے ساتھ ان کو بھی شامل کرے جولوگ ان کی مبائع ہونے کی حیثیت میں تین سالہ زندگی میں غصے کا اظہار کرتے رہے تھے وفات کے بعد ان کو بھی خیال پیدا ہوا اور یہ تو قابل اعتراض بات بھی نہیں خدا کرے یہ پیار بڑھتے بڑھتے مرحوم کی اس خواہش کو بھی پورا کر دے اور وہ بھی خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو جا ئیں بہر حال لاہور میں ان کے کچھ عزیزوں نے کہا کہ وصیت کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ لا ہو ر ہی میں ان کو دفنا دیا جائے اگر چہ ان کی وصیت تھی مگر یہ تو عزیزوں کا کام تھا کہ کسی کا جنازہ زبر دستی تو نہیں لے جایا جا سکتا اور نہ لے جانا چاہیے چنانچہ ان کا جنازہ ہسپتال سے ہماری مسجد دارالذکر میں لے جایا گیا۔اور غالب و ہیں ان کی تجہیز و تکفین ہوئی اور پھر مبائعین نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ان کا جنازہ عزیزوں کو دکھانے کے لئے ان کے گھر لے گئے وہاں انہوں نے کہا کہ ہم تو نہیں چاہتے کہ ان کا جنازہ ربوہ لے جایا جائے چنانچہ انہوں نے مجھے فون پر اطلاع دی میں نے کہا اگر ان کے عزیز نہیں چاہتے تو پھر اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو امانتا دفن کر دیا جائے وقتی طور پر ایسے جذبات ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے اور وہ ان کا جنازہ یہاں لے آئیں۔لیکن ان کی جو روح ہے ان کے اوپر تو عزیزوں کا اختیار نہیں ہے۔روح کو خدا تعالیٰ نے جہاں پہنچانا تھا وہاں پہنچ گئی۔اللہ تعالیٰ سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہماری دعائیں ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ بے شمار اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو فدائی جماعت جن سے خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم راضی اور جو اپنے رب پر راضی ہیں اور جو اس گروہ میں ہیں جو ہم سے آگے جاچکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ان میں شامل کرے اور بے شمار نعمتوں کا وارث بنائے۔پس روح پر تو نہ میرا اختیار ہے اور نہ ان کے کسی عزیز کا اختیار اور نہ آپ کا اختیار ہے۔جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار سے غیر مبائعین پر ایک حجت لے یہ حصہ عبارت بوجوہ الفضل میں چھپنے سے رہ گیا تھا۔ز و دنویسی کے ریکارڈ سے مکمل کر دیا گیا۔