خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 575 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 575

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ بنا دیا اور ایک لمبا عرصہ ان میں رہے اور ایک لمبا عرصہ ان کے سوچے سمجھے منصوبوں کے مطابق ( جو بھی وہ سمجھے تھے ) احمدیت کی ترقی کے لئے کوشاں رہے۔لمبے عرصہ کے مشاہدہ اور ایک لمبے عرصے کے جائزہ نے انہیں حقیقی کامیابیوں سے محرومی کا احساس بھی دلا دیا اور پھر وہ علی وجہ البصیرت اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد پورا ہونا ہے تو پھر جو شخص بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیار کرنے والا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس نیک دل پر اپنے پیار کا جلوہ نازل فرمایا اور جو غلطی تھی وہ اس شخص نے اسی دنیا میں معاف کرالی اب ہمارا یہ بھائی خدا تعالیٰ کے پیار کو لے کر اُخروی دنیا میں چلا گیا۔ان کی نماز جنازہ غائب جمعہ کی نماز کے بعد میں پڑھاؤں گا۔سب دوست اس میں شامل ہوں اور ان کے لئے اور اپنے لئے اور جانے والوں کے لئے اور رہنے والوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کا پیار ہمیشہ ہمارے نصیب میں رہے اور کبھی عارضی طور پر بھی اس کی ناراضگی کی راہیں ہم پر نہ کھلیں اور ہمارے قدم نا پسندیدہ راستوں کی طرف نہ بھٹکیں )۔خدا کرے کہ آٹھ نومہینوں کے بعد جب جذبات ٹھنڈے پڑ جائیں اور عقل ان کے تابع نہ رہے تو ان کا تابوت ( جو خدا کرے عارضی طور پر وہاں دفن ہوا ہو ) یہاں بہشتی مقبرہ میں آ جائے۔بہر حال ان کی روح کا جو مقبرہ ہے وہ تو وہی ہے جو خدا نے ان کے لئے پسند کیا ہماری دعائیں ان کے ساتھ بھی ہیں اور ہماری دعا ئیں ہر وقت پہلے جانے والوں کے ساتھ بھی ہیں یہاں جورہ گئے ہیں ان کے ساتھ بھی ہیں۔دعا ہی تو ہماری روح اور زندگی کا سہارا ہے۔اس کے بغیر تو ہم ایک سانس بھی نہیں لے سکتے اور نہ کسی کامیابی کی امید رکھ سکتے ہیں نہ خدا تعالیٰ کی برکتوں کو جذب کرنے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔یہ صرف دعا ہی ہے جس سے یہ سب کام ہو جاتا ہے۔نماز جنازہ بھی ایک دعا ہے جس میں خدا کی حمد کی جاتی ہے ایک تہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت میں اور جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے۔ایک تہائی وقت میں یا اس سے بھی زیادہ وقت میں اور جس میں ایک تہائی وقت سے کم اپنے لئے دعا کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی حسین