خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 573
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۳ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ اموال میں اور آپ کی کوششوں میں اور آپ کی زمینداری اور آپ کی تجارت اور آپ کے پیشوں میں برکت ڈالے۔چوتھی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بزرگ دوست مولوی یعقوب خان صاحب کل لاہور میں وفات پاگئے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رُجِعُونَ۔ان کی بیعت خلافتِ اولیٰ کی ہے لیکن خلافت اولیٰ کی بیعت کرنے کے باوجود (ویسے تو یہ ایک موٹی بات ہے بچے بھی سمجھ جائیں گے کہ جب ایک خلافت کی بیعت کر لی تو ) پھر خلافت کا انکار دوسری خلافت کے وقت کیسے ہو گیا مگر ہو گیا۔بعض لوگ دنیا کے ابتلا میں پھنس جاتے ہیں غرض انہوں نے خلافت اولی میں بیعت کی اور خلافت ثانیہ کا انکار کر دیا اس طرح غیر مبایعین میں شامل ہو گئے جنہوں نے خلافت کی بیعت نہیں کی اور اس گروہ میں شامل نہیں ہوئے جو خدا تعالیٰ کی برکتوں سے اس وقت ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے اس انکار پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا میں سمجھتا ہوں خلافتِ اولیٰ میں ان سے کوئی ایسی نیکی ہوئی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا انجام بدنہیں ہو گا چنانچہ انہوں نے خلافت ثالثہ کی بیعت کر لی اور اس کے بعد انہوں نے ۲۹ / دسمبر ۱۹۶۹ ء کو وصیت بھی کر دی گویا یہ آج سے تین سال پہلے کی بات ہے انہوں نے بیعت بھی وصیت سے کچھ عرصہ شاید ایک دو مہینے پہلے کی تھی اور پوری بشاشت کے ساتھ اور بڑے دھڑلے کے ساتھ بیعت کی ان کے ایک بڑے بیٹے تو پہلے سے مبائع تھے ان سے چھوٹے بیٹے نہ صرف یہ کہ مبائع نہیں تھے بلکہ بڑا شدید اختلاف رکھنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی فضل کیا انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر ان کی بیوی نے بھی بیعت کر لی۔اس پر مولوی صاحب مرحوم کے پرانے ساتھیوں کو بڑا غصہ آیا اور اپنے اس غصے کا اظہار پیغام صلح میں بھی کرتے رہے اور مولوی صاحب بڑے پیار کے ساتھ ان کا جواب بھی دیتے رہے اور ان کو یہ نصیحت بھی کرتے رہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن کا میاب کرنے کے لئے جو مہم اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے اس میں تمہارا بھی کوئی حصہ ہو تو پھر تم بھی خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔پس خلافت سے دوری بھی رہی اور بڑے لمبے عرصے تک رہی پھر ایک وقت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور وہ شمع خلافت کے پروانہ بن گئے اور اس