خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 500
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۰۰ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء یعنی اگر وہ تم پر کبھی قابو پالیں اور اُن کو موقع ملے تو وہ تمہاری تباہی کے لئے اپنے ہاتھ بھی استعمال کریں گے اور زبانیں بھی استعمال کریں گے۔پھر ایک دوسری جگہ فرمایا :۔وَلَسْمَعْنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا - (ال عمران : ۱۸۷) فرمایا تم اہل کتاب سے بھی اور مشرکوں سے بھی کثرت سے ایذا پہنچانے والی اور دُکھ دینے والی باتیں سنو گے۔جہاں تک زبان سے دُکھ پہنچانے کا تعلق ہے، یہ بنیادی طور پر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک یہ کہ گندہ دہنی سے کام لینا یعنی گالیاں دینا اور دوسرے یہ کہ افتراء کرتے ہوئے جھوٹے اتہام لگانا۔اس بارہ میں جب ہم انبیاء کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ شیطان نے دُکھ اور افتراء کا سب سے بڑا ہدف ہمارے سید و مولا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنایا۔آپ کی زندگی میں منکرین اسلام نے آپ کو جو دُ کھ اور ایذاء پہنچائے تاریخ کے صفحات ان سے بھرے پڑے ہیں۔آپ کے وصال کے بعد مخالفین اسلام کی طرف سے آپ کے خلاف گندے اتہامات اور جھوٹے اعتراضات کا سلسلہ جاری رہا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے مشن پر تین ہزار سے زائد اعتراضات صرف عیسائیوں کی طرف سے عائد کئے گئے۔آپ نے عیسائیوں اور آریوں وغیرہ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی گالیوں اور اعتراضات کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا ہے تا کہ جب مہدی معہود کا مشن اور مقصد کامیاب ہو جائے اور معترضین کا وجود کہیں بھی نظر نہ آئے تو بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے یہ امر باعث یادگار ہو کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اس قسم کے دُکھ دہ حالات تھے۔گواب تو وہ زمانہ بدل گیا عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کو روز بروز ترقی حاصل ہورہی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے اسلام پر ادیان باطلہ کے حملے ہورہے تھے۔ایذا رسانی اور گالیوں کا ایک سلسلہ تھا جو ہمارے محبوب اور ہمارے آقا