خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 501 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 501

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۰ نومبر ۱۹۷۲ء ( خدا تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور صلوات ہوں آپ پر ) کے خلاف جاری تھا۔اب یہی ایذاء رسانی اور گالیاں ہیں جنہیں ہم حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام کے خلاف سنتے ہیں۔بعض لوگ بڑے فخر سے گندہ دہنی کرتے اور اپنے سروں کو اونچا کرتے ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔اسلام تو وہ حسین مذہب ہے جس نے انسان کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کو دور کرنے کی نصیحت کی ہے۔چنانچہ بانی اسلام حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک چھوٹی سی نیکی إمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ بھی ہے۔فرمایا تم راستے میں پڑی ہوئی ایذاء پہنچانے والی چیزوں کو ہٹا دو تا کہ ان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے مگر اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض لوگ راستوں پر چلتے ہیں تو دوسروں کو ایذاء پہنچانے والی باتوں سے فضا کو مکدر کر دیتے ہیں اور اسی طرح اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی روشنی میں انہیں چھوٹی سے چھوٹی نیکی کرنے کی بھی توفیق نہیں ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ایذاء پہنچانے کا دوسرا حصہ دجل سے تعلق رکھتا ہے۔جس میں عیسائیت نے بڑی مہارت حاصل کر رکھی ہے۔عیسائیت نے تاریخی واقعات اور حقائق کو توڑ مروڑ کر اسلام کے خلاف اتنا دجل کیا ہے اور اسلام کی ایک ایسی بھیانک شکل پیش کی ہے اور اسلام اور بانی اسلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایسا زہر پھیلا دیا ہے کہ جس سے بہت سے جاہل اور نادان آدمی اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔پس ایک طرف تو گالیاں ہیں جو اسلام کے خلاف ہمیں سننی پڑتی ہیں اور دوسری طرف افتراء پردازی اور دجل ہے جو ہمارے کانوں میں پڑتا ہے۔اسلام کے خلاف یہ دونوں حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔عیسائی اور بعض دوسری مخالف قو میں اسلام کو اتنا بدل دیتی ہیں کہ جو لوگ اصل حقیقت کو نہیں جانتے وہ فوراً متاثر ہو جاتے ہیں۔اُن کے تصور میں بھی نہیں آسکتا کہ یہ کس قسم کا دجل ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے خدا ، قرآن کریم اور اسلام کے خلاف لوگوں نے استعمال کیا ہے۔غرض یہ دو بڑی بڑی ایذاء رسانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور ان کی جماعتوں کو زبان اور تحریر کے ذریعہ پہنچائی جاتی ہیں۔یہ دکھ دہی کے دوحربے ہیں جو الہی جماعتوں کے خلاف