خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 499
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹۹ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء خدائی جماعتوں کے خلاف ہمیشہ ہی ایذارسانی کے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۰ نومبر ۱۹۷۲ ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصّبِرِينَ - وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ۔(آل عمران: ۱۴۷، ۱۴۸) اور اس کے بعد فرمایا:۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا چلا آیا ہے کہ جو لوگ انبیاء علیہم السلا کی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔منکرین اور مخالفین انہیں دُکھ دینے اور ایذا پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم میں اس ایذا رسانی اور دُکھ دہی کے متعلق بڑی تفیصل اور وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ جماعت مومنین کو زبان سے بھی دُکھ پہنچایا جائے گا اور ہاتھ سے بھی تکلیف دینے کی کوشش کی جائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔إن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَالْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ - (الممتحنة: ٣)