خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 454

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۴ خطبہ جمعہ ۶ اکتوبر ۱۹۷۲ء دائرہ میں، عام مہینوں کے مقابلے میں تمہاری رمضان کی سخاوت معمولی ہوا کے مقابلے میں جو تیز چلنے والی ٹھنڈی ہوائیں ہوتی ہیں اس نسبت سے ہونی چاہیے۔اتنی سخاوت کرو کہ جسے دنیا بھی محسوس کرے اور تمہارا ماحول بھی محسوس کرے۔میں نے بتایا ہے کہ اعمال صالحہ کی مثال پانی کی ہے خدا کی راہ میں مال خرچ کرنا بھی ایک عمل صالح ہے۔آپ کو اس حد تک سخاوت کرنی چاہیے کہ گویا کسی چیز کو اتنا پانی مل جائے کہ مثلاً درخت کے اردگرد جو ہو دی لگائی جاتی ہے اس سے باہر نکل آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس طرح تمہارے ایمان کے درخت کی جو ٹہنیاں ہیں ان کو کسی قدر مضبوطی حاصل ہو جائے گی۔پہلے ان کے اندر نرمی تھی اور ان کے لئے بہت سے خطرات تھے۔نرمی کا مطلب یہی ہے کہ وہ وقت معرض خطر میں ہیں مثلاً ہمارا یہ مادی جسم ہے۔جس شخص کے اندر قوت مدافعت نہ ہو تو اس پر بیماری کے حملے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔چنانچہ جن بچوں کے اندر قوت مدافعت نہیں ہوتی کمزور ہوتے ہیں۔بعض دفعہ والدین ایسے بچوں کو میرے پاس دعا کے لئے لے آتے ہیں کہ یہ ہمارا بچہ ہے جسمانی ساخت کے لحاظ سے بہت کمزور ہے۔اچانک بیمار ہو جاتا ہے کبھی بخار اور کبھی نزلہ زکام ہو جاتا ہے۔آپ دعا کریں تندرست ہو جائے۔غرض جس طرح درخت کی ٹہنیاں نرم و نازک ہونے کی وجہ سے ہر وقت معرض خطر میں ہوتی ہیں اسی طرح ایمان کے درخت کی ٹہنیوں کو بھی بیماریوں کا خطرہ رہتا ہے۔اس روحانی امراض کے خطرہ کو دور کرنے کا ایک طریق انفاق فی سبیل اللہ ہے۔اس سے روحانی درخت کی ٹہنیوں میں مضبوطی آجاتی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے کا رمضان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اس ماہ مبارک میں یہ بڑا تا کیدی حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں کو حاصل کرو۔گویا رمضان کے مہینے میں انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ روحانی ٹہنیوں کو مضبوط کرنے کی یہ تیسری برکت ہے۔جس کا رمضان کے ساتھ تعلق ہے۔پھر رمضان کے مہینے میں صبح روزہ رکھنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت روزہ کھلنے تک دن کا ایک بڑا لمبا عرصہ جس میں بیویوں سے جائز تعلقات سے روکا گیا ہے۔روزہ کی حالت میں انسان جائز تعلقات بھی نہیں رکھ سکتا۔اس میں شہوات نفسانیہ کا مقابلہ کرنے کا سبق سکھایا گیا ہے