خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 455 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 455

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۵ خطبہ جمعہ ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء اور بتایا گیا ہے کہ جب تم اپنے نفس پر قابو پالو گے تو گویا ایمان کا درخت اپنے تنے پر مضبوطی سے کھڑا ہو جائے گا۔خواہشات نفسانیہ پر قابو پانا انسان کا آخری مجاہدہ ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نفس کے تابع نہ رہے بلکہ اس کا نفس اس کی روحانی فراست کے تابع ہو جائے اور یہ انسان کے مجاہدے کا آخری مرحلہ ہے۔یہ سبق ہمیں رمضان میں سکھایا گیا ہے اور یہ چوتھی بڑی برکت ہے جو اس ماہ مبارک میں میسر آتی ہے۔پھر جس وقت انسان کا نفس اس کے قابو میں آجاتا ہے اور انسان مجاہدہ کی آخری سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے اور اپنا ہاتھ آسمانی برکات کو حاصل کرنے کے لئے اوپر اٹھاتا ہے تو اسے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اب بھی اسے آسمانی برکات نہیں مل سکتیں جب تک آسمانی برکات خود اس کے قریب نہ آجائیں یا آسمان سے برکات کا نزول نہ ہو اور خدا تعالیٰ خود اپنے فضل سے اپنے فیض کو اس کے قریب نہ کر دے پہلے اس نے پکڑنے کے لئے ایک ہاتھ اٹھایا تھا۔پھر وہ دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور دعا میں مشغول ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے ربّ کریم ! جہاں تک میری کوششوں کا تعلق تھا میں نے اپنی سمجھ ، ہمت اور طاقت کے مطابق تیرے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کر دی ہے۔میرا درخت وجود تو قائم ہو گیا مگر پھل نہیں آتا جب تک تیری رحمت آسمان سے نازل نہ ہو اس لئے اے خدا! تو اپنے فضل سے آسمان سے اپنی رحمت کو نازل فرما۔چنانچہ اگر اس کی یہ دعا قبول ہو جائے تو ایک نئی قوت آسمان سے آتی ہے ایک نئی چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے جو زمین سے نہیں پیدا ہوتی جس کو ہم اپنی طاقت سے نشو ونما نہیں دے سکتے۔گوجسم اپنے کمال کو پہنچ گیا۔اس کی ٹہنیوں میں مضبوطی پیدا ہو گئی۔اس کے پتوں پرحسن آ گیا لیکن ابھی اس کو پھول آئے نہ پھل لگے۔اس کے لئے انسان عاجزانہ طور پر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا طالب ہوتا ہے۔پس اگر اور جب اللہ تعالیٰ انسان کی عاجزانہ اور منتظرانہ دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے تو وہ ہاتھ جو اس کی طرف اٹھتے ہیں وہ خالی واپس نہیں آتے اللہ تعالیٰ اپنے بے شمار خزانوں سے انسان کی جھولی بھر دیتا ہے اور بھرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان بسا اوقات یہ بھی کہہ اٹھتا ہے کہ اے