خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 453 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 453

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۳ خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۷۲ء اپنے فطرتی میلان کی وجہ سے بڑا مشہور تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر ایک ٹیلے پر تشریف فرماتھے سامنے وادی میں بیت المال کے اونٹ اور بھیڑیں چر رہی تھیں وہ سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان جانوروں میں سے مجھے کچھ جانور دیں۔آپ نے فرمایا یہ جو تمہیں سامنے جانور نظر آرہے ہیں یہ سب ہانک کر لے جاؤ۔وہ یہ سن کر حیران رہ گیا اسے یقین نہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سوچ رہے ہو۔میں کہتا ہوں کہ یہ سارے جانور ہانک کر لے جاؤ۔بڑی مشکل سے اسے یہ بات سمجھ میں آئی۔چنانچہ وہ سارے جانور لے گیا اور جب اپنے قبیلہ میں پہنچا تو اس نے لوگوں سے کہا کہ سارے مسلمان ہو جاؤ۔جو شخص اس قدر سخاوت کرتا ہے اور مجھے یہ کہہ دیتا ہے کہ وادی کے سارے کے سارے جانور بانک کر لے جاؤ اس کی دولت کا سر چشمہ دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوسکتی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جو تمام خزانوں کا مالک ہے اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے ورنہ وہ یہ کہنے کی جرات نہ کرتا کہ سارے کے سارے جانور ہانک کر لے جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے اس پر رحمت نازل کرنی تھی اس لئے اس پر یہ دلیل کارگر ہو گئی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اس قدر سخاوت کرنے والے تھے ان کے متعلق احادیث یہ گواہی دیتی ہیں کہ ماہ رمضان میں آپ کی سخاوت عام مہینوں کے مقابلہ میں ایسی تھی جیسے تیز ٹھنڈی ہوا ہوتی ہے۔ہلکی ہوا کے مقابلہ میں اس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ آپ کی سخاوت کہاں تک پہنچی ہوگی۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس وقت ایمان کے درخت کی ٹہنی نکل آئے یعنی پہلے بار یک چھوٹی اور معمولی سی روئیدگی تھی اس کے بعد جب وہ ٹہنی کی شکل اختیار کر جائے تو اس میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے خدا کی راہ میں اموال خرچ کرو۔ماہِ رمضان سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔رمضان کی برکتوں میں سے یہ تیسری برکت ہے۔اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے احمدیوں کو بھی اور دوسروں کو بھی جن کو اللہ تعالیٰ سمجھ دے۔ہر شخص اپنی طبیعت اپنے اموال، اپنی حیثیت اور اپنے وسائل کے مطابق سخاوت کرتا ہے خدا کے حکم سے خدا کی راہ میں مال دیتا ہے لیکن اپنے اپنے