خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 452 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 452

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۲ خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء کر سکتی ہے مثلاً چھیتی گندم لگا دیں تو اگر چڑیوں کو اور کہیں کھانے کو نہ ملے تو وہ چونچ سے ذرا سے جھٹکے کے ساتھ پودے کو بیچ سمیت باہر نکال دیا کرتی ہیں۔انسان کی بھی یہی حیثیت ہے۔اگر وہ اس سے پہلے عاجزانہ مقام اختیار نہ کر چکا ہو تو وہ چنڈول کی زد میں ہے ایک چھوٹی سی بے حیثیت چڑیا آکر اسے فنا کر سکتی ہے لیکن چونکہ اس نے عاجزانہ راہ کو اختیار کیا ہوتا ہے اس لئے وہ اللہ کی حفاظت کے اندر آ جاتا ہے۔ایمان کی روئیدگی کا جو زمانہ ہے وہ خیریت سے گذر جاتا ہے۔اس سبزہ کے اگانے اور اس کو قائم رکھنے میں رمضان کی برکات بڑی مفید بھی ہیں اور بڑی حسین بھی ہیں۔ہمارے درخت وجود کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور اس سے روئیدگی نکلتی اور پنپتی بھی ہے۔اب یہ خطرہ نہیں رہتا کہ درخت یا فصل کے ساتھ خودرو، بے فائدہ اور ضرر رساں جھاڑیاں اُگ آئیں گی جو درختوں کی غذا کھالیں گی۔اسی طرح انسان جب لغو باتوں کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ اکثر گناہوں سے بچ جاتا ہے۔پھر تیسری چیز اپنے مالوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق ہے۔ہر درخت کی پہلے ایک روئیدگی ظاہر ہوتی ہے۔پھر اس کے اندر کچھ مضبوطی آجاتی ہے۔یہ ایک ٹہنی کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور بڑی بڑی اونچی نکل جاتی ہے مثلاً آم لمبی عمر پانے والا درخت ہے اگر تخمی آم ہے تو اس کا درخت پچاس پچاس فٹ اونچا چلا جاتا ہے اور ایک ایک درخت پچاس پچاس من پھل دے جاتا ہے۔اس کی گٹھلی بڑی نرم اور نازک سی ہوتی ہے مگر اس گٹھلی ( یعنی بیج) سے اگنے والا پودا اپنی جسامت اور اونچائی میں ایک بہت بڑا درخت بن جاتا ہے۔اسی طرح ایمان کا پودا بڑھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی پرورش اللہ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرنے سے کرو۔رمضان میں انفاق فی سبیل اللہ کی طرف بڑی تو جہ دلائی گئی ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان میں بہت سخاوت کرتے تھے۔آپ کی سخاوت ایک تیز چلنے والی ٹھنڈی ہوا کی مانند ہوتی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عام حالات میں بھی بڑے سخی تھے۔اتنے سخی کہ آپ کی سخاوت کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ایک دفعہ مدینہ میں عرب کا ایک سردار آیا۔معلوم ہوتا ہے کہ جس قبیلہ سے اس کا تعلق تھا وہ اپنی سخاوت میں