خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 20
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء مفلوج ہیں تو پھر ان کے جزوی فالج کا ذکر ہمیں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ پھر تو ہم شاید اس بات کے قابل بھی نہ رہیں کہ اُن کے لئے اپنے دل میں رحم کے جذبات پیدا کر سکیں کیونکہ ہماری حالت اُن سے بھی زیادہ گری ہوئی ہے۔پس جس رنگ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اُس رنگ میں ہر احمدی کو محنت کرنی چاہیے اور اپنی جد و جہد کو انتہا تک پہنچانا چاہیے۔ہر فرد کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیت کی شکل میں اُسے جو اصلی قوت اور اصلی دولت عطا فرمائی ہے اس سے وہ اپنے دائرہ صلاحیت کے اندر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے اگر آج پاکستان میں بسنے والے احمدی ہی اپنی صلاحیتوں کی نشو ونما کو ان کی انتہا تک پہنچا دیں تو اسی سے ہمارے اس پیارے ملک کی کا یا پلٹ جائے گی حالانکہ ہم بہت تھوڑے ہیں لیکن اگر ہم اپنی تھوڑی تعداد کے باوجود بھی اپنی صلاحیتوں کی نشوونما آخری حد تک پہنچا دیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو زیادہ سے زیادہ دولت ہر چہار لحاظ سے کسی کو مل سکتی ہے وہ ہمیں مل جائے تو پاکستان کی دولت میں اتنا اضافہ ہو جائے گا کہ دُنیا کی کوئی اور طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی لیکن اگر ہم وعظ تو سنتے رہیں مگر عمل نہ کریں اور اپنے اوقات کو ضائع کرتے رہیں اور ہمارے نوجوان جنہیں خدا تعالیٰ نے ذہن عطا فرمائے تھے وہ اپنے ذہنوں کو کند چھری کے ساتھ ذبح کرنے والے ہوں اور ہمارے وہ پیشہ ور دوست جنہیں اللہ تعالیٰ نے حسن عمل کی صلاحیت عطا فرمائی تھی وہ اس دنیا میں خوبصورتی اور محسن پیدا نہ کر سکیں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے لیکن اگر ہم ایسا کر دیں تو پھر ہمارا ملک (اور پھر ساری دُنیا لیکن اس وقت میں اپنے ملک کی بات کر رہا ہوں۔ویسے ہماری ذمہ داری ساری دُنیا کی خوشحالی کی ہے ) دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک امیر ملک بن جائے گا۔اسلئے کہ ہم تھوڑے ہیں لیکن اگر پاکستان کے سارے باشندے خدا تعالی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے غلبہ اسلام کی یہ ایک عظیم مہم جو دنیا میں جاری کی گئی ہے اس میں شامل ہو جائیں تو پھر میں کہوں گا کہ ہم ساری دنیا سے آگے نکل جائیں گے۔لیکن ہم احمدی جو اس مملکت کے شہری ہیں ، ہماری تعداد گو بہت تھوڑی ہے لیکن اگر ہم اپنی نجات کی معراج کو پالیں یعنی ہماری قوتوں، ہماری استعدادوں اور ہماری صلاحیتوں کی نشوونما اپنے کمال تک پہنچ جائے تو