خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 19
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹ خطبہ جمعہ ۱۴ ؍جنوری ۱۹۷۲ء رہتی یعنی وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو چاروں انگلیوں کے ملنے سے نکلنا تھا اب اگر کسی کی صلاحیت کی چھوٹی انگلی جسمانی طور پر اور شہادت کی انگلی ذہنی طور پر ترقی کر گئی اور مضبوط ہوگئی اور بڑی طاقتور بن گئی لیکن اگر بیچ کی دو انگلیوں نے اخلاقی اور روحانی طور پر ترقی نہیں کی یا ان میں کوئی نشوو نما نہیں ہوئی تو ان انگلیوں کے ذریعہ گرفت کیسے ہوگی۔جس شخص کی اس طرح کی انگلیاں ہوتی ہیں ہم اسے مفلوج کہتے ہیں۔پس جن قوموں نے صرف مادی لحاظ سے اور ذہنی لحاظ سے ترقی کی ہے اسلام کی اصطلاح میں وہ قو میں مفلوج ہیں کیونکہ انہوں نے اخلاقی اور روحانی لحاظ سے ترقی نہیں کی لیکن وہ تو ناواقف ہیں۔ان کو پتہ ہی نہیں وہ اسلام کی تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔کسی نے اُن کو قرآن کریم نہیں سکھایا۔کسی نے اس کے معارف اُن کے سامنے نہیں رکھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے اُن کا تعلق نہیں پیدا ہوا۔وہ اس کے پیار کو نہیں پہچانتے کہ وہ کس طرح اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے انہوں نے وہ نظارے دیکھے ہی نہیں۔وہ ایک حد تک معذور ہیں مگر جہاں تک صلاحیتوں کا تعلق تھا وہ معذور نہیں لیکن جہاں تک ماحول کا تعلق ہے وہ معذور ہیں۔مگر کیا یہ معذرت آپ کی زبان سے نکل سکتی ہے؟ کیونکہ آپ کو تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ہے۔آپ کو تو خدا تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم نور عطا فرمایا ہے اور آپ کے سامنے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ایک عظیم اسوہ کے رکھا ہے لیکن دوسری قوموں کی آنکھ کے سامنے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی اُسوہ حسنہ نہیں ہے۔اُن کے پاس تو قرآن کریم جیسی کوئی کتاب نہیں ہے۔اُن کی ایک حد تک دنیوی لحاظ سے معذرت قبول ہوسکتی ہے۔باقی یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جانے۔ہمیں اس سے تعلق نہیں تاہم ہمارے دماغ بھی ایک حد تک اس معذرت کو قبول کر لیتے ہیں لیکن دنیا کا کون سا دماغ ہے جو ایک مسلمان کی معذرت کو قبول کرے گا۔کوئی شخص نہیں جو اس کی معذرت قبول کرے اس لئے صرف دوسروں کو مفلوج کہہ دینے سے ہمیں کوئی فائدہ، کوئی خوشی نہیں ہوتی کیونکہ اگر ان کی دو انگلیاں کام کر رہی ہیں اور باقی دو مفلوج ہیں اور آپ کی اُن سے آگے نکلنے کی صلاحیت اور بہتر ماحول رکھتے ہوئے بھی چاروں انگلیاں