خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 18
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸ خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء نہیں کیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتنی حمد کرنی چاہیے۔غرض یہ اسی تسخیر کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دُنیا کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا دیا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے ایک مسلمان کو تو یہ بھی فرمایا تھا کہ اُس نے تمہارے لئے یورینیم کو مسخر کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق مسلمانوں کو بڑی وضاحت سے فرمایا تھا مگر اس کا فائدہ اُٹھا گیا امریکہ اور روس اور یہ بڑے شرم کی بات ہے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ فرمایا تھا کہ اس زمین میں جو کچھ بھی پایا جاتا ہے خواہ یہ یورینیم ہو یا ایک ایسا ذرہ ہو جس سے تم شیشہ بناتے ہو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ تمام صلاحیتیں عطا کر دی ہیں کہ جن کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں تم اس مادی دنیا میں زیادہ سے زیادہ دولت کما سکتے ہوا اور پھر تدریج کا اصول بنایا یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نشو و نما کی ذمہ داری تمہارے ماں باپ ،تمہارے ماحول اور تمہارے نفسوں کے اوپر ڈال دی گئی ہے۔تم ترقی کرو اور میرے انعامات کو حاصل کرتے چلے جاؤ۔اب اس تمہید کے بعد میں اپنے بڑوں اور چھوٹوں ، مردوں اور عورتوں، بچوں اور بالغوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور محنت کی عادت ڈالیں۔محنت سے میری مراد صرف محنت کا وہ لفظ نہیں کہ جس کو میں بولتا ہوں تو ہمارے کان اس کی لہریں سنتے ہیں مگر نہ تو لوگ سمجھتے ہیں اور نہ کام کرنے کا عزم کرتے ہیں۔محنت سے میری مراد اس تمہید کی روشنی میں یہ ہے کہ ہم نے ہر اس صلاحیت پر جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بخشی ہے زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈالنا ہے اور اچھے سے اچھے نتائج نکالنے ہیں۔جب میں کوشش کا لفظ بولتا ہوں تو اس سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ ہمیں دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔دراصل دعا بھی ایک کوشش ، ایک تدبیر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ مجھ پر تو وجد طاری کر دیتا ہے آپ فرماتے ہیں ( صحیح لفظ تو مجھے یاد نہیں مگر ان کا مفہوم یہی ہے کہ ) دعا تد بیر ہے اور تدبیر دعا ہے۔غرض دنیا بھی ایک کوشش ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ یہ روحانی کوشش ہے مثلاً ہاتھ کی چار انگلیاں ہیں۔یہ علیحدہ علیحدہ ہوتی ہیں اور اگر ان میں سے دو کی نشوونما نہ ہو تو چار کی طاقت نہیں