خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 363
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۳ خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۷۲ء بیان ہوئے ہیں ایک جہادا کبر ہے دوسرا جہاد کبیر ہے اور تیسرے کو جہاد صغیر کہتے ہیں اور جہاد کے بنیادی معنے کی رو سے ہر سہ قسم کے جہادوں میں کوشش کو انتہا تک پہنچا نالازمی ہے۔جہادِ اکبر نفس کے خلاف جہاد ہے یعنی شیطان کے جو حملے کسی نفس کے خلاف یا کسی خاص شخص کے خلاف ہوتے ہیں۔ہم نے اپنی خداداد طاقتوں کو ان شیطانی حملوں سے محفوظ رکھ کر ان کی انتہائی نشوونما کے لئے کوشش کرنا ہے۔ہم نے اپنی قوتوں کی پرورش میں انتہائی زور لگانا ہے اور پوری کوشش کرنی ہے کہ خداداد طاقتوں کی نشو و نما میں کوئی تدبیر رہ نہ جائے کوئی غفلت یا سستی نہ ہو جائے اس کوشش کو جہادا کبر کہتے ہیں۔میں نے بتا یا تھا کہ جہادِ اکبر کے ذریعہ اسلام کی ایک زبردست فوج تیار ہوتی ہے اس لئے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قدوسیوں اور مطہرین کے سردار ہیں آپ کی فوج غیر مطہر اشخاص پر مشتمل نہیں ہو سکتی۔اس واسطے جس شخص نے اسلام کی فوج کا سپاہی بننا ہو اور وہ دل سے یہ چاہتا ہو کہ وہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ خود مطہر بنے۔پس جہادا کبر ایک ذریعہ ہے نفوس کی اصلاح کا۔تا کہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے اسلام کی ایک زبردست فوج تیار کی جائے یہ فوج تلوار یا ایٹم بم لے کر دنیا میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ پاک نفوس اور منور سینوں کو لے کر دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے نکلتی ہے۔پس اصلاح نفس، جس سے اسلام کی فوج تیار ہوتی ہے، اس کے لئے دو بنیادی کوششیں کی جاتی ہیں۔ایک وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ کے مطابق خود انسان اپنے نفس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے اس کو ہماری اصطلاح میں محاسبہ نفس کہا جاتا ہے۔بعض سیاسی جماعتوں نے ایک نئی اصطلاح بنادی ہے میرے کان تو اس سے مانوس نہیں اور نہ اس کی ضرورت تھی وہ محاسبہ نفس کی جگہ خود تنقیدی“ کہتے ہیں۔اب جبکہ ہمارے پاس محاسبہ نفس جیسی ایک نہایت عمدہ اصطلاح موجود تھی تو پھر بھلا خود تنقیدی کی اس اصطلاح کی کیا ضرورت تھی؟ یہ اصطلاح اردو میں استعمال نہیں ہوتی۔ہمارے کان اس سے نا آشنا بھی ہیں اور اسے سنا پسند بھی نہیں کرتے۔