خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 362
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۲ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء سیاستدان ہیں۔مگر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا میں نام نہیں لیتا ( شاید ان کی وزارت کے زمانہ میں کوئی وزیر تھا ) بڑا امیر آدمی تھا اس کے پاس کاریں تھیں وہ بڑے پیسے والا تھا مگر اس نے جماعت کی بڑی مخالفت کی تھی تم میں سے ہر ایک شخص کو پتہ ہے۔میں اس کا نام نہیں لیتا۔مگر اب بتاؤ کہاں ہے وہ آدمی کہاں ہیں اس کی کاریں اور کہاں ہے اس کا خاندان؟ غرض یہ الفاظ ایک غیر از جماعت سمجھدار اور سابق نائب وزیر اعظم کے ہیں جس نے اپنی تقریر میں برملا اظہار کیا اور احمدیت کی صداقت کا ایک نشان بنا۔غرض اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے حق میں ساری دنیا میں اپنی قدرت اور اپنے پیار کے نشان دکھاتا ہے جب تک ہم اس کے وفادار اور شکر گزار بندے بنے رہیں گے اس وقت تک ہم اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے نشان اور اس کے پیار کے جلووں کو دیکھتے رہیں گے۔اس واسطے عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے پیار اور اس کے فضلوں کو جذب کرو تا کہ دشمنوں کی طرف سے جو بھی فتنہ کھڑا ہو وہ کامیاب نہ ہو۔ہمیں ان کی ہلاکت سے کوئی غرض نہیں ہے اور نہ ہماری یہ خواہش ہے کہ وہ ہلاک ہوں۔ہم تو ان کی اصلاح چاہتے ہیں ہم ان کے مقابلے پر کھڑا ہونا نہیں چاہتے ہم دعا کرتے ہیں کہ ان کے جو منصوبے ہیں وہ ”خَيْرُ الْمَكِرِينَ “ توڑ کر رکھ دے وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہوں اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور جماعت احمدیہ کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اسلام کو غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھاتی چلی جائے۔احباب اس کے لئے دعا کرتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔تیسرے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عنقریب خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا اجتماع ہونے والا ہے۔۶-۵ - ۷ راخاء (اکتوبر) ربوہ میں منعقد ہوگا۔چونکہ اس خطبہ کے چھپنے اور جماعتوں میں پہنچنے پر کچھ وقت لگے گا اس واسطے میں نے اس اجتماع کے متعلق کچھ کہنے کے لئے اس جمعہ کو چنا ہے۔پچھلے دنوں جب میں ربوہ گیا تھا اس وقت میں نے محنت کرو! محنت کرو!! محنت کرو!!! کے مضمون پر خطبہ دیا تھا وہ خطبہ ابھی چھپا نہیں۔میں نے اس خطبہ میں یہ بتایا تھا کہ جہاد کے اصل معنی ہیں انتہائی طاقت استعمال کر دینا۔پھر میں نے یہ بھی بتا یا تھا کہ تین قسم کے جہاد اسلام میں