خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 364
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۴ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء بہر حال ایک تو یہ محاسبہ نفس ہے جس کے ذریعہ انسان خود اپنا خیال رکھتا ہے کہ اس نے کہاں غلطی کی ہے۔انسان کے اندر بشری کمز دوریاں ہیں وہ غلطی کرتا ہے محاسبہ نفس کی عادت ہو تو اس کے اندر ندامت پیدا ہوتی ہے وہ تو بہ و استغفار کرتا ہے اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے اصلاح نفس یعنی انسانی قوتوں اور استعدادوں کی کامل نشو و نما کے لئے کئی دوسرے طریقے بھی ہیں جنہیں انسان اختیار کر سکتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكُلَّ شَيْءٍ فَضَلْنَهُ تَفْصِيلًا (بنی اسراءیل : ۱۳) یعنی انسانی طاقتوں اور قوتوں کی بہترین اور حقیقی اور کامل نشو و نما کے لئے جس قسم کی تعلیم اور ہدایت کی ضرورت تھی وہ قرآن کریم کے ذریعہ کھول کر بیان کر دی گئی ہے۔پس انسان جب ذاتی اصلاح کے لئے قرآن کریم پر غور کرتا ہے تو اسے اپنی اصلاح کا موقع ملتا ہے اس کی صرف یہی خواہش نہیں ہوتی کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فوج کا ایک سپاہی بنے بلکہ اس کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کا ایک ایسا سپاہی بنے جس کو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ پیار حاصل ہو۔غرض ایک تو یہ کوشش ہے جس سے انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور جہاں غلطی دیکھتا ہے وہ اس کی اصلاح کرتا ہے اصلاح نفس کے لئے اسلام نے ہمیں جو دوسرا ذ ریعہ بتایا ہے وه تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوى (المائدة : ۳) ہے۔اس میں ہم اپنے نفس کی اصلاح کے علاوہ اپنے بھائی کے نفس کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں۔تعاونوا کے یہی معنے ہیں کہ اپنے بھائی کو نیکی اور تقویٰ کے اختیار کرنے میں مدد دی جائے تا کہ اس کی غلطیاں اور کمزوریاں ، اس کی ستیاں اور غفلتیں دور ہوں اور وہ باہم مل کر اس رفعت کے میدان میں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کے لئے تیار کیا گیا ہے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں وہ اپنی اصلاح کر کے کندھے سے کندھا ملا کر روحانی رفعتوں کو حاصل کرتے چلے جائیں۔پھر تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی کی جو کوشش ہے وہ آگے دوحصوں میں منقسم نظر آتی ہے ایک انفرادی اور دوسری منظم۔جہاں تک انفرادی کوشش کا تعلق ہے ایک بھائی بھائی کی اصلاح کی