خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 17
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۷ خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء ہیں جس کے نتیجہ میں صلاحیت کی حقیقی اور کامل نشو ونما میں روک پیدا ہوتی ہو۔اب موجودہ چین ہم سے آگے نکل گیا ہے حالانکہ اس کا وجود پاکستان سے کم عمر ہے۔ہم نے ۱۹۴۷ء میں آزادی حاصل کی تھی اُنہوں نے غالباً ۴۸ء یا ۴۹ء میں آزادی حاصل کی تھی وہ ملک ہم سے سال دو سال چھوٹا ہے۔مجھے صحیح طور پر تو یاد نہیں لیکن یہ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی عمر ہمارے ملک سے چھوٹی ہے لیکن ہم سے وہ مادی اور ذہنی لحاظ سے آگے نکل گیا ہے اور یہ اس لئے ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ایک مسلمان کو یہ نہیں فرمایا تھا کہ اگر تو کوشش نہیں کرے گا تب بھی میں تیری صلاحیتوں کی نشو و نما کر دوں گا اور ایک غیر مسلم کو اُس نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تیری نشو و نما تیری کوشش کے باوجود دائرہ استعداد کے قریب سے قریب تر نہیں ہوگی۔یہ دُنیا کا قانون ہے۔یہ قانونِ قدرت اور قانونِ فطرت ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے کہ جو شخص اپنی صلاحیتوں کے نور کو اُجاگر کرنے کی انتہائی کوشش کرے گا وہ منور ہو جائے گا۔یہ زندگی صرف مادی اور ذہنی ہی نہیں بلکہ دنیا میں اخلاقی اور روحانی زندگی بھی ضروری ہے اور اخلاقی اور روحانی لحاظ سے ( جیسے بھی ہم ہیں) پھر بھی وہ ہم سے پیچھے ہیں لیکن انہوں نے جس صلاحیت یا صلاحیت کے جس میدان میں (اور میں نے بتایا ہے کہ یہ چار میدان ہیں ) کوشش کی اس میں وہ ہم سے آگے نکل گئے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ قانون نہیں ہے اگر تم صحیح وقت پر گندم نہ بھی بیجو تب بھی تمہارے اسلام کی طرف منسوب ہونے کے نتیجہ میں تمہارے کھیتوں میں گندم اُگ آئے گی۔کبھی آپ گندم کا بیچ مارچ یا اپریل میں لگا کر تو دیکھیں۔خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ اُس نے تمہارے اندر جو صلاحیتیں رکھی ہیں اگر تم ان کو نشوونما کے لئے اسی کے بتائے ہوئے طریق پر کوشش کرو گے تو اس کا نتیجہ نکلے گا۔ان صلاحیتوں کے نتائج نکالنے کے لئے یہ ساری دنیا بنی ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اس عالمین کو تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے۔زمین کو مسخر کیا کہ وہ تمہارے لئے اناج اُگائے اور تمہارے لئے کپڑوں کا سامان پیدا کرے یا تمہارے لئے چکنائی کا سامان پیدا کرے یا تمہارے لئے ایندھن کا سامان پیدا کرے وغیرہ وغیرہ۔ہم زمین سے ہزار ہا اشیاء حاصل کر رہے ہیں اور پھر بھی ہم نے کبھی غور