خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 230

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۰ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء غرض ہر انسانی طاقت خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہونی چاہیے۔اسی واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے دُنیوی رشتوں کے ساتھ پیار خدا تعالیٰ کے لئے کرو گے تو نیکی حاصل کرو گے مثلاً اگر تم خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں پیار سے لقمہ ڈالو گے تو تمہیں اس کا ثواب مل جائے گا۔اب تو ویسے ہی دُنیا عیش وعشرت میں پڑی ہوئی ہے۔ان کو تو کوئی ثواب نہیں ملتا کیونکہ نیت کا فرق پڑ گیا ہے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا جو مقصد ہے اس مقصد میں فرق پڑ گیا ہے۔ایک آدمی نے اپنی عیش کے لئے ایک کام کیا۔دوسرے نے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک کام کیا۔ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں جو بھی قو تیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ان سب کو پوری طرح نشو ونما دینا یعنی انتہائی محنت کرنا ہمارا فرض ہے اگر ہم محنت نہیں کرتے تو ہم دُنیا کی نگاہ میں ۱٫۴ دولت دینے والے ہیں۔اگر ہم نے ۱/۴ دولت دی اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہم صرف ۱/۸ دولت دینے والے ہیں تو اس کی شکل یہ بنے گی کہ اگر ہم نے دولت کی کمائی کے لئے اپنی طاقتوں کی نشو و نما صرف پچاس فیصد کی اور پچاس فیصد جونشو نما ہوئی اس کے نتیجہ میں اگر ہم نے سوروپے حاصل کئے اور اگر سو فیصد نشو نما ہوتی تو دوسوروپے حاصل کرتے۔مگر ہم نے پچاس فیصد نشوونما کر کے اسی نسبت سے دُنیا کی دولت کمائی اور پچیس روپے یعنی ۱٫۴ خدا کی راہ میں دے دیا لیکن خدا تعالیٰ نے جو قو تیں اور صلاحیتیں پیدا کی تھیں وہ تو دوسوروپے کمانے کی تھیں۔اس لحاظ سے خدا تعالیٰ نے اپنی عطا کے مقابلے میں اگر یہ فرمایا کہ مثلاً ۱٫۴ دو تو یہ پچاس روپے بنتے تھے لیکن آپ نے پچاس میں سے چھپیں دیئے تو گویا باقی پچیس کی حد تک آپ نے اپنے کو نیکیوں سے محروم کر دیا۔غرض اللہ تعالیٰ آپ سے جو پیار کرنا چاہتا ہے اور اپنی رضا کی جو جنتیں آپ کے لئے پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کی عطا کردہ تمام قوتوں اور صلاحیتوں کی صحیح اور کامل نشو و نما ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ محنت انتہائی طور پر کی جائے۔چنانچہ لغت عربی میں یہ جو جہاد اور مجاہدہ کا لفظ آتا ہے اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ انسان