خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 229
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۹ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء اپنے جنون میں کسی آدمی کو قتل کر دیتا ہے تو جج کہتا ہے کہ پاگل تھا اس سے قتل ہو گیا۔ظلم ہو گیا لیکن اس کے اوپر کوئی الزام نہیں پس جو شخص مجنون ہے اس کے لئے دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے بند ہیں اور چونکہ دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے اس کے لئے بند ہیں اسی لئے اُخروی حسنات کی کمائی کا دروازہ بھی اس کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔پس ہم ایسے شخص کو مرفوع القلم کہہ دیتے ہیں۔ہم اس پر نہ نیکی کا حکم لگاتے ہیں اور نہ بدی کا ، نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس نے مالی قربانی دی اور نہ یہ کہ اُس نے مالی قربانی نہیں دی مثلاً اگر کوئی مجنون یا مرفوع القلم آدمی اپنے باپ کی تجوری کو گھلا پائے اور وہاں سے دس ہزار روپے نکال کر جنون کی حالت میں کسی مستحق کو دے دے تو یہ نیکی شمار نہیں ہوگی کیونکہ اس نے جنون میں آکر ایسا کیا ہے یہ نیکی نہیں جنون ہے۔غرض یہ ایک حقیقت ہے اور قرآن کریم نے اسے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ دنیوی حسنات کے بغیر اُخروی حسنات کے سامان پیدا نہیں ہوتے ، اس لئے کہ اُخروی حسنات کے سامان اللہ تعالیٰ کی راہ میں دُنیوی نعمتوں کو خرچ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔جس کے پاس نعمت ہی کوئی نہیں وہ خرچ بھی نہیں کر سکتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص نامرد ہے وہ پاک باز ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔کیونکہ اُسے طاقت ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار قسم کی طاقتیں اور صلاحیتیں بخشی ہیں اور ان کے اوپر اُخروی نعمتوں کا انحصار ہے، یہ طاقتیں ماں ہیں اُخروی نعمتوں کے حصول کی ، ان کے بغیر کوئی اُخروی نعمت نہیں مل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة: ٤) اور بعض دوسری آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی طاقتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اور ہر طاقت اور صلاحیت سے یہ مطالبہ فرمایا ہے کہ وہ میری راہ میں قربان ہو جائے۔میں آپ کی بیان کردہ تفسیر کا مفہوم بیان کر رہا ہوں۔الفاظ میرے اپنے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت تو بڑی حسین ہے مگر ہم عاجز بندے ہیں اور اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔