خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 231
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۱ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء اتنی محنت کرے کہ اس کے قومی تھک جائیں اور وہ زبانِ حال سے یہ کہ اُٹھیں کہ اس سے زیادہ کام نہیں کر سکتے۔پس انتہائی محنت نام ہے پوری اور وسیع قوت کو ہر لحاظ سے خرچ کر دینے کا اور اسلام ہم سے اسی قسم کی محنت کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سلسلہ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ محنت کے بغیر نہ دُنیا میں کوئی ترقی ہوتی ہے اور نہ دین میں محنت کے بغیر کوئی ترقی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو اپنے مقربین کے گروہ میں شامل کرنا چاہا لیکن اُس نے اپنی جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی قوتوں کی کمال نشود نما نہیں کی تو وہ دوسرے درجے میں چلا گیا یا تیسرے درجے میں چلا گیا تو گویا خود کو اُس نے کئی نیکیوں سے محروم کر دیا یا مثلاً ایک کند ذہن طالب علم ہے وہ سکول کے امتحان میں تھرڈ ڈویژن لیتا ہے تو (اے بچو! ) ماسٹر کہے گا۔الْحَمدُ لِلهِ۔شکر ہے اللہ تعالیٰ نے فضل کیا پاس ہو گیا۔اس کے مقابلے میں ایک ذہین طالب علم ہے مگر اس نے پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دی۔وہ امتحان میں سیکنڈ ڈویژن لیتا ہے لیکن سیکنڈ ڈویژن لینے کے باوجو د استاد کہتا ہے یہ بڑا ہی نالائق ہے۔ہیڈ ماسٹر کہتا ہے یہ بہت ہی نالائق ہے۔اگر یہ محنت کرتا تو یو نیورسٹی میں فرسٹ آسکتا تھا لیکن اس نے اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کو ضائع کر دیا۔اس طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے فرمائے گا کہ میں نے تمہارے لئے کہیں آگے نکلنے کے لئے مواقع بہم پہنچائے تھے اور تمہارے اندر طاقتیں اور صلاحیتیں رکھی تھیں مگر تم نے میری اس عطا سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور جس طور پر میں تم پر فضل کرنا چاہتا تھا۔اس طرح تم نے میرے فضلوں کو حاصل نہیں کیا۔پس قربانیاں دینے کی ماں دراصل محنت شاقہ ہے اور جہاں تک جنتوں کے حصول کے لئے انسانی کوشش کا تعلق ہے انتہائی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے تم تدبیر کو اس کی انتہا تک پہنچاؤ۔پھر دعا کو اس کی انتہا تک پہنچا ؤ اور پھر تد بیر اور دعا کے انتہائی مقام پر کھڑے ہو کر کہو اے خدا! ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تیرے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔