خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 228

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۸ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء ضَلَّ سَعْيُهُمُ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا (الكهف : ۱۰۵) یعنی ان کی تمام تر کوشش اس دُنیوی زندگی کے لئے ہوتی ہے۔ان کے مقابلے میں ایک وہ انسان ہے جو دین کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال قربان کرنے کے لئے دُنیا کماتا ہے۔اب جہاں تک دُنیا کے کمانے کا سوال ہے۔دونوں برابر ہیں لیکن جہاں تک دولت کے خرچ کرنے کا سوال ہے ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ ایک تو دنیا کما کر زمینی بن گیا اور دوسرے نے دُنیا کمائی اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔اس لئے ہر دو میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی جب دُعا سکھائی گئی تو اس کے ایک معنے یہ ہوئے کہ ہم خدا سے یہ کہیں کہ اے خدا! ہم نے انتہائی محنت اور انتہائی تدبیر کر دی دُنیا کمانے کے لئے ہم نے اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچا دیا اور اسی طرح دعا کو بھی انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اب اس مقام پر کھڑے ہو کر ہم یہ کہتے ہیں رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کہ اے ہمارے رب! ہماری تدبیر اور ہماری دُعا تیرے فضل اور تیری رحمت کے بغیر نتیجہ نہیں پیدا کرسکتی اس لئے تو اپنے فضل سے اس کا نتیجہ پیدا کر اور اس دُنیا کی حسنات میں ہمیں شریک اور حصہ دار بنا اور ہمیں اس کا وارث قراردے تا کہ ہم دُنیا کی نعمتوں کو حاصل کر کے اور پھر ان نعمتوں کو تیری راہ میں قربان کر کے اپنی روحانی اور اُخروی حسنات کے لئے سامان پیدا کریں۔غرض حقیقت یہی ہے کہ دُنیا کی حسنات کے بغیر اُخروی حسنات مل نہیں سکتیں۔میں اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں تاکہ بچے بھی سمجھ جائیں۔جو شخص دُنیا کی حسنات سے کلی طور پر محروم ہو جاتا ہے اس کے اوپر روحانی حکم لگتا ہی نہیں۔اس کے متعلق لوگ کہہ دیتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔اس لئے جہاں تک ایک مجنون کی دنیوی حسنات کے بارے میں محنت اور کمائی کا تعلق ہے یا اس کی کوشش اور مجاہدہ کا سوال ہے وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ پاگل ہے۔اس لئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسم اور زندگی بخشی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھائی دیئے ، اس کو دوست دیئے اور اس کے اردگرد خیال رکھنے والے انسان بنائے۔چنانچہ وہ اس کا خیال رکھتے ہیں لیکن جہاں تک اس کی اپنی طاقتوں کا سوال ہے۔اس کی کسی طاقت کے اوپر کوئی حکم نہیں چلا سکتا۔وہ