خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 201 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 201

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۱ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء پس جس ہستی کا مقام عَبدُهُ وَ رَسُولُه یعنی ان دو چیزوں کے ایک حسین امتزاج کا مقام ہے۔اس نے تو اپنی عبودیت اور عبادت اور اس نے تو اپنی عاجزی اور انکسار کا اعلان اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیسیوں جگہ کر دیا اور اس آیہ کریمہ میں بھی تین زاویوں سے اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے یعنی میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔میرا یہ دعویٰ ہی نہیں ہے کہ میرے پاس کسی اپنی ذاتی خوبی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں میں تو محض اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور تذلیل کرنے والا اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جوا اپنی گردن پر رکھنے والا ہوں۔پھر میرا یہ دعویٰ ہی نہیں کہ میں علم غیب رکھتا ہوں۔میرا تو مقام یہ ہے کہ میری بیوی جو میری زندگی کا لحظہ بہ لحظہ مشاہدہ کرتی ہے، اگر وہ مجھ سے یہ پوچھے کہ کیا مجھے میرے اعمال کی وجہ سے نجات ملے گی تو میرا جواب یہ ہوگا کہ نہیں عائشہ! مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے نجات مل سکتی ہے اور تیسرے فرمایا کہ میرا یہ بھی دعوی نہیں ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور کسی ذاتی خوبی کے نتیجہ میں معصوم عن الخطا ہوں گو آپ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے معصوم کا مل بھی ہیں۔پس وہ جو خدا کا کامل بندہ بھی تھا اور اس کا کامل رسول بھی تھا وہ تو یہ اعلان کرے مگر ہم میں سے کوئی آدمی با وجود محض عبد ہونے کے اور وہ بھی طفیلی طور پر اور پھر باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی کامل معرفت نہ رکھنے کے یہ سمجھے اور کہے کہ وہ نعوذ باللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ گیا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دے۔بعض نوجوان دماغ بہک جاتے ہیں۔کئی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی بڑا بزرگ ہے۔فلاں شخص بڑا فرشتہ ہے۔میں کہتا ہوں فلاں شخص فرشتہ کیسے ہو گیا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے یہ اعلان کروایا گیا کہ میں یہ دعوئی ہی نہیں کرتا کہ میں فرشتہ ہوں اور پھر فلاں آدمی بزرگ کیسے بن گیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔فلا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ (النجم : ٣٣) جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ہمارا مقام عبد ہونے کا مقام ہے اور وہ بھی طفیلی طور پر کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود نہ ہوتا تو خدا اور اس کی صفات کی معرفت کس نے حاصل