خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 200
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۰ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء انہیں لینا چاہو تو میرے پاس آجاؤ۔دوسرے میں تمہیں کب کہتا ہوں کہ میں علم غیب جانتا ہوں۔مستقبل کے متعلق جانا چاہو تو مجھ سے آکر معلوم کر سکتے ہو۔میرا تو یہ دعوی ہی نہیں ہے۔تیسرے میں نے تمہیں یہ کب کہا کہ میں فرشتہ ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر اپنی طاقت سے پاک اور معصوم ہوں۔اس لئے تم میرے پاس آؤ۔غرض پہلا مقام مقام عبودیت ہے جس پر عبد کامل ہمارا محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑا ہے اور آپ کے منہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا کہ میں تمہیں کب کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس اعلان کے بعد احمق ہوگا وہ شخص جو یہ اعلان کرتا پھرے کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں۔مجھ سے آکر لےلواور بیوقوف ہوگا وہ آدمی جو یہ اعلان کرے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم غیب بتانے کا ملکہ یا قابلیت یا اہلیت یا مقام عطا ہوا ہے۔اس لئے اے لوگو! علم غیب حاصل کرنا چاہو تو تم میرے پاس آؤ۔میں تمہیں غیب کی باتیں تمہاری منشاء کے مطابق بتادوں گا اور پھر احمق اور بدقسمت ہوگا وہ انسان جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس آواز اور اس اعلان کے بعد کہ میں نے کب کہا کہ میں فرشتہ ہوں، یہ دعویٰ کرے کہ وہ فرشتہ ہے۔کوئی عقلمند انسان ، کوئی آدمی جو محمد اور اس کے خدا سے پیار کرنے والا ہے۔کوئی شخص جو الہی صفات کو جاننے والا ہے، کوئی عقل جس نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ دیکھا ہے، کوئی دل جس نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عاجزی اور تذلل کے مقام کا مشاہدہ کیا اور اسے محسوس کیا ہے۔وہ اس قسم کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔یہ بڑا خوف کا مقام ہے۔میں ایک دن قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا۔جب میں اس آیت پر پہنچا تو اس نے میری توجہ کو اپنی طرف کھینچا۔یہ چار پانچ روز پہلے کی بات ہے۔اس روز سے میں تو اپنے لئے تو بڑا فکر مند ہوں۔پتہ نہیں انسان کیا کیا غلطیاں کر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے اور ہر وقت استغفار کرتے رہنا چاہیے کیونکہ ہمارا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت قدسیہ یا آپ کی برکتوں کے نتیجہ میں طفیلی اور ظلی طور پر صرف عبد کا مقام ہے۔اس لئے ہمارا مقام نہ عَبدہ کا ہے اور نہ رَسُولُه کا۔