خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 202

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۵ مئی ۱۹۷۲ء کرنی تھی اور اس عظمت اور جلال کو دیکھ کر اپنے عبد ہونے کے مقام کو کس نے پہچاننا تھا۔پس اللہ کے عبد کے مقام کی حیثیت میں ہمیں جو کچھ ملا ہے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ملا ہے۔اس آیہ کریمہ میں ان تین اعلانوں کے بعد جو عَبدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔رَسُولُه تعلق رکھنے والا یہ اعلان کروا دیا۔إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلی یعنی میں تو اس وحی کی اتباع کرنے والا ہوں جو مجھ پر کی گئی ہے۔یہ میرا اعلان ہے اور بس۔اس کے بعد فرما یا اندھا اور صاحب بصارت و بصیرت برابر نہیں ہوا کرتے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت نہیں رکھتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ شخصیت جو عَبدُهُ وَرَسُولُه کے حسین امتزاج سے بنتی ہے اسے نہیں جانتا ، وہ نہ قرب الہی، نہ محبت الہی اور نہ مقامِ عبد پہچان سکتا ہے اور نہ اسے حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کو قرآن کریم کے بیان کے مطابق جانتا ہے اور جو یہ بھی جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد ہونے کہ لحاظ سے بھی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں اور رسول ہونے کے لحاظ سے بھی آپ خاتم الانبیاء کا مقام حاصل کئے ہوئے ہیں۔آپ یہ اعلان کرتے ہیں :۔إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى حالانکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ارفع ، اعلیٰ صاحب کمالاتِ کاملہ نبی تھے۔آپ خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب نبی تھے اور آپ اللہ تعالیٰ کے اتنے پیارے نبی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا کہ اگر میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو میرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرو۔اگر تم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی راہوں سے پرے ہٹ جاؤ گے اور آپ کی برکتوں سے دوری اختیار کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کی محبت کو نہیں پاسکو گے۔جو شخص اس حقیقت کو پہچانتا ہے، وہ بڑا خوش قسمت ہے۔پس سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہمارا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام سے کہیں نیچے ہے۔ایک معا نچلا مقام تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آگیا یا