خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 176

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۷۶ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ ء زخموں پر مرہم لگنے کے سامان پیدا ہو جائیں۔بہر حال یہ زمانہ ایک مذہبی جماعت کی حیثیت میں ہمارے لئے بھی اور ہمارے ان سب بھائیوں کے لئے بھی جنہیں دُنیا عوام کہتی ہے اور جن کو غریب سمجھتے ہوئے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس دیکھتے ہوئے دھتکار رہی تھی تلخیوں کا زمانہ تھا۔اس عرصہ میں اس ساری حسین تعلیم کو جو اسلام نے انسان کو دی اور جسے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں رائج کرنا چاہتے تھے۔پس پشت ڈال دیا گیا۔میں اس وقت گزشتہ پچیس سالہ مختلف حکومتوں کا جو دور ہے، اس میں ان کا کیا کردار رہا۔اس کا تجزیہ تو نہیں کرنا چاہتا۔میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ کسی وقت میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ماضی کے حالات کا بھی، حالیہ واقعات کا بھی اور مستقبل کی اُمیدوں کا بھی تجزیہ کروں گا۔لیکن ایک بات بڑی واضح ہے اس کا ذکر میں اس وقت کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں جو بالغ یہ۔اور ادھیڑ عمر کی سنجیدہ نسل تھی اُس نے بڑی قربانیاں دیں تب جا کر پاکستان کا قیام عمل میں آیا لیکن ایسامحسوس ہوتا ہے کہ اس نسل کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حکومت کرنے کے قابل نہیں سمجھا گیا۔اس کے برعکس ایک نسل تو وہ تھی جو تقسیم ملک کے وقت بچے تھے یعنی جو ۱۹۴۷ء میں پیدا ہوئے تھے اور دوسری وہ جو اُس وقت جوانی کے ابتدائی دور یعنی ۲۱ اور ۲۵ سال کی درمیانی عمر کے تھے۔اب ان میں سے جو بچے تھے وہ تو نا سمجھ تھے اور جو ابھی ابھی بالغ ہوئے تھے وہ نا تجربہ کار تھے۔اس لئے حکومت کا انتظام لازماً اُن لوگوں کے سپر دہوا جو ذرا بڑی عمر کے تھے یعنی ۳۵،۳۰ سال سے اوپر کے تھے۔ان میں سے بھی کچھ لوگ بظاہر کم تجربہ کار اور کچھ زیادہ تجربہ کار تھے اور بڑے سنجیدہ تھے اور ایک وقت میں بڑی قربانیاں دینے والے تھے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اس نسل کو دُنیوی لحاظ سے حقیقی طور پر حاکم نہیں بنانا چاہتا تھا چنانچہ اس عرصہ میں ظلم کا ایک چکر چلتا رہا۔کسی حکمران نے بعض باتوں میں لوگوں کا کچھ خیال رکھا اور بعض لحاظ سے ظلم روار کھے۔کسی نے بعض اور پہلوؤں کا کچھ خیال رکھا اور ساتھ ہی ظلم بھی کرتا رہا۔ہم کسی کو پورے طور پر بڑا نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس دُنیا میں کسی کو پورے طور پر برا کہہ دینا نہ درست ہے نہ معقول