خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 177

خطبات ناصر جلد چہارم 122 خطبه جمعه ۲۱ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ ء ہے اور نہ مناسب ہی ہے۔اس لئے گذشتہ دور کی مختلف حکومتیں کلی طور پر بری نہیں کہلائی جاسکتیں لیکن کسی صورت اچھی بھی نہیں کہلائی جاسکتیں کیونکہ جہاں تک میں نے غور کیا ہے اُن کے بڑے کام اُن کے اچھے کاموں سے زیادہ ہیں۔ہم برے کام کو بُرا اور اچھے کام کو اچھا کہیں گے کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شراب کی ممانعت فرمائی مگر ساتھ ہی فرما یا شراب جیسی چیز کو بھی تم کلیتہ بُرا نہ کہو کیونکہ یہ بھی اپنی ذات میں پورے اور کلی طور پر بری نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فِيهِمَا اثْم كَبِيرُ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ (البقرة : ٢٢٠) فرمایا۔اس میں گندگی اور گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لئے بھلائی کے سامان بھی ہیں دُنیوی لحاظ سے ہم بہت ساری چیزوں کی Preservation ( پری زرویشن ) یعنی قائم اور محفوظ رکھنے کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔غرض اس سے بہت سے مفید کام لئے جاتے ہیں مگر جہاں تک کسی آدمی کے شراب کے استعمال کا تعلق ہے اس میں برائیاں زیادہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا پینا منع کر دیا ہے۔اس میں دراصل ہمارے لئے ایک اصول قائم کر دیا گیا ہے کہ Wholesale Condemnation ( ہول سیل کنڈیمنیشن ( یعنی خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ چیز کے متعلق یہ کہہ دینا کہ اس میں برائی ہی برائی ہے، یہ اصولاً غلط ہے کسی چیز میں جو برائیاں ہیں وہ چند خاص اور غلط زاویوں سے پیدا ہوتی ہیں اور جو خوبی ہے وہ صحیح زاویہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہر چیز کا مجموعی جائزہ لینے اور اُسے چاروں طرف سے دیکھنے کے بعد ہی اُس کی اچھائی یا برائی کا حکم لگانا چاہیے۔یہ بھی ایک مستقل مضمون ہے اور بیان کرنے کے قابل ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی دی اور توفیق بخشی تو کسی وقت اسے بھی انشاء اللہ بیان کروں گا۔بہر حال پچھلے ۲۵ سال میں جن حکومتوں کا دور دورہ رہا اُن میں ہمیں بظا ہر برائیاں زیادہ اور خوبیاں کم نظر آتی ہیں۔وہ اس ملک کے حقیقتا حاکم نہیں تھے۔ان کی حکومتوں کا نظام صرف پاکستان کو زندہ اور قائم رکھنے کے لئے تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے