خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 86

خطبات ناصر جلد سوم ۸۶ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء تمہاری مدد کو آ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نا کام نہیں کر سکتی اور اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہیں سہارا نہ دے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں کامیاب نہیں کر سکتی۔اس واسطے جیسا کہ یہ حکم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا کہ تدبیر کو انتہاء تک پہنچانے کے بعد اپنے اوپر اور اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں کرنا بلکہ محض اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا ہے اسی طرح جماعت مؤمنین کو کہا کہ یہ نہ سمجھنا مثلاً اس زمانے میں فدائی جانثار پوری عظمت اور جلال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست رکھنے والے اور عرفان رکھنے والے مگر شیطان ان کا دماغ اس طرح بھی بہکا سکتا تھا کہتا کہ اتنا عظیم وجود تمہارے اندر موجود ہے اس کی فراست ، اس کا عزم، اس کی ہمت ، اس کی دعا ئیں اب اس تدبیر میں شامل ہوگئی ہیں۔اب تو تم کامیاب ہو جاؤ گے شیطان ان کے کان میں یہ پھونک سکتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے جماعت مؤمنین ! اگر شیطان تمہارے کان کے پاس منہ لا کر یہ کہے کہ جو تم نے کرنا تھا کر لیا اب تم کامیاب ہو جاؤ گے تو اس کی آواز پر کان نہ دھرنا بلکہ یہ اصولی حقیقت یا درکھنا کہ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نائبین کو تد بیر کے انتہاء تک پہنچا دینے کے بعد بھی تو گل کا حکم ہے اسی طرح تمہیں بھی تو گل کا حکم ہے اور تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر تم نے اپنی تدبیر پر بھروسہ کیا تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمہیں مدد نہ دے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر تم کامیاب اور کامران نہیں ہو سکتے اور اگر تم نے تدبیر کو انتہاء تک پہنچانے کے بعد رسول کے قدم بقدم تو کل کے میدان میں چلتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ محض اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنی کوشش اور تدبیر اور فر است اور سمجھ اور بوجھ کو کوئی حقیقت نہ سمجھا اور کوئی اہمیت نہ دی تو پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہیں ملے گی اور جب اللہ تعالیٰ کی نصرت کسی شخص یا کسی قوم یا کسی جماعت یا کسی نسل کومل جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کی کامیابی کے راستے میں روک نہیں بن سکتی یہ ہدایت اور تعلیم ہے جو مشورہ کے متعلق ہمیں دی گئی ہے۔آج شوریٰ کے اجلاس شروع ہو رہے ہیں کم و بیش تین دن تک شوری رہتی ہے۔آپ اس ہدایت کے مطابق پوری توجہ اور انہماک سے اور اونگھنے کے بغیر اپنی ذمہ واری کو نبھا ئیں یعنی جب آپ سے مشورہ مانگا جائے تو بے نفس مشورہ دیں جس طرح پھول اپنے جز و شہد کو مکھی کے