خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 85

خطبات ناصر جلد سوم ۸۵ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء یعنی بیماریوں سے بچانے کا کام ہے اور یہ ساری چیزیں اس کے اندر آ جاتی ہیں۔غرض فرما یا کہ جماعت تیار کرو اور پھر ان سے مشورہ لو اور یہ آگے جو مشورہ کا ہے اس کی مثال دے دی کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے شہد کی مکھی شہد بنا رہی ہو۔آراء لو پھر اپنے عزم کو اپنی ہمت کو اپنی کوشش کو اپنی دعاؤں کو اس کے اندر شامل کر و اس مقام پر انسانی تد بیرا اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی لوگ اکٹھے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا رسول یا نائب رسول نے اپنے عزم کی Enzymes (انزائمز ) اس میں شامل کیں دعائیں بیچ میں شامل کیں اور تد بیر کو انتہا ء تک پہنچا دیا اور جس وقت تدبیر انتہاء کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ تدبیر پر بھروسہ نہیں کرنا۔یہ صیح ہے کہ ہماری ہدایت کے مطابق تم نے اپنی تد بیر کو اس کی انتہاء تک پہنچاد یا لیکن یہ بھی درست ہے کہ محض تدبیر پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جتنی بے وفائیاں دنیا کی تدابیر نے انسان سے کی ہیں ان کا کوئی شمار نہیں تدبیر پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ ہم نے حکم دیا تھا تد بیر کو انتہاء تک پہنچاؤ تم نے تدبیر کو انتہاء تک پہنچا دیا اب ہم تمہیں کہتے ہیں کہ اپنی تد بیر کو انتہاء تک پہنچانے کے بعد بھی تم نے تدبیر پر بھروسہ نہیں کرنا فتوكل على الله اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے۔پھر ایک اور دعا بھروسہ کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ پر توکل جو ہے اس کے ساتھ دوسری دعا جو ہے وہ شروع ہو جاتی ہے اور جو آراء لی تھیں اور کثرت رائے کے حق میں یا خلاف جو بھی شکل شہد کی بنی وہ بن گئی۔پس یہاں محض یہ نہیں کہا کہ اے رسول ! تمہارا عزم شامل ہو گیا۔تم نے اللہ تعالیٰ کی تدبیر کو انتہاء تک پہنچا دینے کے بعد تد بیر پر بھروسہ نہیں کرنا اللہ پر توکل کرنا ہے۔مومنوں کو یہ کہا کہ تم یہ نہ سمجھنا تمہاری آراء کے ساتھ نائب نبوت کا عزم اور ہمت اور کوشش اور دعا مل جانے سے تم کامیاب ہو جاؤ گے۔تم بھی یہ یا درکھو اس کے باوجود تم بھی کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ تم کو اللہ پر بھروسہ رکھنا پڑے گا اور دوسری آیت میں فرمایا وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (ال عمران :۱۶۱) ایک حکم دیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی وساطت سے آپ کے نائین کو اور دوسرا حکم دیا جماعت مسلمین کو وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ میں اسی طرف اشارہ ہے اور اس میں جماعت مؤمنین کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ یہ بات نہ بھولنا کہ اگر اللہ تعالیٰ