خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 565
خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۵ خطبہ جمعہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۷۱ء عظیم روحانی فرزندان باتوں کو سنتا اور کوئی غم نہیں کرتا تھا۔اس لئے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے آنے والی یہ آواز اُس کے کان میں پڑی تھی۔وَلَا يَحْزُنُكَ قَولُهُمْ ان کی باتیں مجھے غمگین نہ کریں چنانچہ وہ شخص کیسے غمگین ہو سکتا ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اور آپ کے حکم سے کچھ تو انسانوں نے سلام پہنچایا اور فرشتے تو ہر وقت اُسے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلام پہنچارہے تھے پس وہ کیسے غمگین ہوسکتا تھا یا گھبراسکتا تھا یا پریشان ہو سکتا تھا۔وہ تو خوش تھا۔اُسے تو راہ کے یہ کانٹے تکلیف نہیں دے رہے تھے بلکہ پھول معلوم ہوتے تھے۔ہر دُکھ جو اُ سے پہنچایا گیا اُس کے لئے خوشیاں لے کر آیا اور اُس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت اور خدمت کے جذبہ کو اُس نے اور بھی تیز کیا۔وہ یہی سمجھتا تھا کہ دنیا نا واقف ہے، پہچانتی نہیں کہ میرا رب دنیا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اور عظمت کے قیام کے لئے کیسا عظیم انقلاب لانا چاہتا ہے۔وہ خود بھی دعائیں کرتا تھا۔اُس نے ہمیں بھی فرمایا کہ تم اپنے ایمان میں پختہ نہیں ہو گے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کر سکو گے جب تک تم اپنے دشمنوں کے لئے بھی اسی طرح دعا ئیں نہ کرو گے جس طرح اپنے دوستوں کے لئے دعائیں کرتے ہو۔غرض وہ کسی کا دشمن نہیں تھا۔نہ اُس نے ہم سے یہ کہا ہے کہ کسی سے دشمنی کرو۔اُس نے ہمیں یہ فرما یا کہ تم ہر ایک کی خدمت کرو۔ہر ایک کے خادم بنو۔ہر ایک کی خیر چاہو۔ہر ایک کے خیر خواہ بنو، ہر ایک کے دکھ دور کرنے کی کوشش کرو اور ہر ایک کے دُکھوں کا مداوا بنو۔اُس نے یہ تعلیم ہمیں یہ کہ کر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ اس راہ سے نہ ادھر ہیں اور نہ اُدھر جائیں اور نہ بھٹکیں۔پس جس چیز نے اپنی سال میں ہمیں پریشان نہیں کیا اور ہمیں غمگین نہیں بنایا، وہ چیز ہمیں آج بھی غمگین نہیں بنا سکتی کیونکہ ہم جانتے ہیں۔” إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا “ ہر قسم کا غلبہ اور قدرت اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور جو اعمال اور منصو بے اُس کی مرضی اور منشاء کے خلاف کئے جاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوا کرتے اس لئے کہ وہ سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے۔