خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 564

خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۴ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۱ء موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان انتہائی نازک دور میں سے گزر رہا ہے اور ہماری بقاء ہم سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کر رہی ہے ایسے وقت میں بعض لوگوں کا اس طرح گند کو اُچھالنا اور اس رنگ میں اپنے اندرونہ کو ظاہر کرنا (ہم سمجھتے ہیں کہ ) یہ ہمارے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ اپنے ملک کے ساتھ دشمنی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے ذہن کو فراست کا کچھ نور عطا فرمائے اور وہ حقائق کو دیکھنے لگے اور وہ اپنے اور اپنی قوم کے نقصان کے در پے نہ ہو۔دراصل یہ ہماری راہ کے کانٹے ہیں اور ہم نے یہ کب کہا ہے کہ ہمارا راستہ کانٹوں کے بغیر ہے ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ تمہاری راہ میں کانٹے ہوں گے لیکن تم ان کی پرواہ نہ کرنا۔تمہارے راستے میں روکیں کھڑی کی جائیں گی۔تم اُن کو پھلانگتے ہوئے چلے جانا۔اس طرف توجہ نہ دینا۔اپنی ساری توجہ اُس کام کی طرف لگانا جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے چنانچہ ہماری آنکھ نے دیکھا اور ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ گذشتہ اسی سال میں ہمارے خلاف جب بھی اس قسم کی مہمیں جاری کی گئیں (اور ہمیشہ ہی جاری کی گئیں ) تو اس قسم کی مہموں کے نتیجہ میں ہمیں نقصان نہیں پہنچا۔تم میں سے ( جو یہاں بیٹھے ہو) ہر ایک آدمی اس بات کا گواہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند کا مشن نا کام نہیں ہوا۔دنیا نے تو کیا گھر والوں اور اپنے ملک کے لوگوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔اُسے تو اپنی عزت نہیں چاہیے تھی۔اُسے تو اُس ایک وجود کی عزت چاہیے تھی جس کی عزت کے نتیجہ میں ساری دنیا کو عزتیں ملتی ہیں۔اگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود نہ ہوتا تو بنی نوع انسان میں سے کسی کو عزت کا کوئی مقام بھی حاصل نہ ہوتا۔اس عزت والے، اس صاحب عزت کی خاطر اسی کے محبوب روحانی فرزند نے ہر قسم کی ذلت اٹھانے کا تہیہ کر لیا اور یہ کام اُس نے اپنی خاطر نہیں کیا بلکہ اُس نے یہ کام بنی نوع انسان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور کرنے اور اُن کے دلوں میں آپ کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے کیا کیونکہ آپ کو اسی کام کے لئے کھڑا کیا گیا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم روحانی فرزند کے خلاف باتیں کہی گئیں اور وہ اتنی سخت باتیں تھیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس سے زیادہ باتیں کسی کان نے نہیں سنیں لیکن خدا کا وہ بہادر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا