خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 566
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۷۱ء اللہ تعالیٰ اپنے منصوبوں کو دنیا میں چلانے اور کامیاب کرنے کے لئے اس ماڈی دنیا میں انسانوں میں سے بعض کو کھڑا کرتا ہے اور پھر انہیں دعا کی توفیق دیتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آخری شریعت لے کر آئے اور یہ آخری ہی نہیں بلکہ ایک ایسی عظیم ، ایسی حسین ، ایسی اعلیٰ اور ارفع شریعت بھی ہے کہ آپ سے پہلے جتنے شارع انبیاء ہوئے ہیں اُن میں سے کسی نے بھی اس قسم کی تعلیم دنیا میں پیش نہیں کی اور نہ اُسے پیش کرنی چاہیے تھی کیونکہ دنیا اس قسم کی کامل اور مکمل شریعت کو قبول کرنے کے لئے ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہوئی تھی۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بار بار آپ کو تاکید کرتا تھا کہ اپنی اُمت اور بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ دعاؤں میں مشغول رہو۔اگر ہم اذیت کو برداشت کرنے اور گالی کا جواب دعا سے دینے اور دُکھ پانے کے بعد سکھ پہنچانے کے انتظام کے منصوبے بنانے میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر قائم رہیں تو ہمیں وہ دعائیں ملیں گی جو آپ نے کی ہیں۔اب جس قوم کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں مل جائیں وہ کیسے غمگین ہو سکتی ہے۔اس کے چہرے پر تو ہمیشہ بشاشت کھیلتی رہے گی اور جماعت احمدیہ کے چہروں پر ہمیشہ بشاشت کھیلتی رہتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ جو ہمارا رب ، ہمارا محبوب اور ہم سے بہت پیار کرنے والا ہے اُس نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کو سنا اور اُس کے اذن سے ہمیشہ کے لئے یہ سلسلہ جاری ہے کیونکہ اگلا اور پچھلا سب علم اُسے حاصل ہے۔دعائیں پوشیدہ تو نہیں ہوسکتیں کیونکہ وہ علیم ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے اور سب چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لئے جو دعا ئیں تھیں اور آپ کی نوع انسان کے لئے جو دعا ئیں تھیں، اُن کا بھی اُس نے احاطہ کیا ہوا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علیم ہے وہ جانتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جس نور کے ساتھ ، محبت کے جس جذبہ کے ساتھ اور بنی نوع انسان کی جس ہمدردی کے ساتھ اُس نے مبعوث کیا تھا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال عین اُس تعلیم کے مطابق تھے۔اسی وجہ