خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 563
خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۳ خطبہ جمعہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۷۱ء پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے اور انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے خطبہ جمعہ فرموده ۳۱ دسمبر ۱۹۷۱ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیہ کریمہ پڑھی:۔وَلَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - (يونس: ٦٦ ) اور پھر فرمایا:۔مجھے یہ اطلاعیں آرہی ہیں کہ بعض مقامات پر پوسٹرز کے ذریعہ اور بعض جگہ تقاریر اور گفتگو کے ذریعہ پھر سے جماعت احمدیہ کو تکلیف پہنچانے کے لئے سخت کلامی اور افتراء پردازی سے کام لیا جانے لگا ہے۔جہاں تک جماعتِ احمدیہ کی فطرت ( جماعتیں بھی اپنی ایک فطرت رکھا کرتی ہیں ) کا تعلق ہے، انسانی آنکھ نے ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ ہم نے کسی کی گالی کے مقابلہ پر گالی نہیں دی اور اُس وقت بھی جب کہ ہم کو دُ کھ دیا گیا کبھی کسی کو دُ کھ پہنچانے کے متعلق سوچا تک نہیں۔اس لئے کہ ہم تو خود کو خیر امت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، جس کا قیام اللہ تعالیٰ کی قدرت سے عمل میں آیا ہے اور جس کی بقاء اس لئے ضروری ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں بھلائی کا وہ سمندر جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں پیدا کیا گیا ہے، اس سے نکلنے والی نہریں ادھر اُدھر ساری دنیا میں پھیلیں اور بنی نوع انسان کی بھلائی کا انتظام ہو۔