خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 539 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 539

خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۹ خطبہ جمعہ ۳/ دسمبر ۱۹۷۱ء جائیں۔اس لئے ہر پاکستانی خصوصاً ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ اپنی دعاؤں اور اپنی محنت کے ساتھ اور اپنی جدو جہد کے ذریعہ اور اپنے کام میں زیادہ مہارت کا مظاہرہ کر کے استحکام پاکستان کے لئے کوشاں رہے اور وہ ملک کی سلامتی اور ملک کے استحکام اور ملک کی عزت اور وقار اور احترام کی خاطر اپنی زندگی کی ہر گھڑی خرچ کر رہا ہو۔اگر حکومت کو کاروں اور موٹر گاڑیوں کی ضرورت پڑے تو خوشی سے دے دینی چاہئیں۔ابھی کار میں تو شاید لینی نہیں شروع کیں۔سنا ہے خاص قسم کی گاڑیاں لے رہے ہیں پس قوم اور ملک کو جن کی ضرورت ہے۔وہ گاڑیاں وہ لے جائیں گے اور ہمیں بشاشت کے ساتھ دے دینی چاہئیں۔ہمیں جو گاڑیاں ملیں یا جو کپڑے ملے یا جو مال و دولت ملا، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے جس خدا نے پہلے دیا وہ آج بھی دے گا اور کل بھی دے گا۔پھر ہمیں خوف کس بات کا ہے اور گھبراہٹ کس بات کی ہے۔چونکہ یہ ہنگامی حالات ہیں۔ہر فرد واحد کو قوم کے استحکام اور قوم کی عزت اور وقار اور احترام کی خاطر اپنا سب کچھ اپنی استعدادوں اور دعاؤں سمیت قوم کو پیش کر دینا چاہیے اور حکومت سے پورا تعاون کرنا چاہیے۔اس لئے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جلسہ سالانہ ملتوی کر دیا جائے پھر جیسا کہ ہماری دعا ہے جب یہ ہنگامی حالات ختم ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے لئے غیر معمولی خوشیوں کے سامان پیدا کر دے تو پھر ہم خوشی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ چھلانگیں لگاتے ہوئے اپنے جلسہ میں شامل ہو جائیں گے۔ہمیں بنیادی طور پر عمل صالح کا حکم دیا گیا ہے اور عمل صالح اس نیک کام کو کہتے ہیں جو موقع اور محل کے مطابق ہو۔حالات بدلتے ہیں بعض دفعہ صبح سے شام تک حالات بدل جاتے ہیں۔دیکھو دن کے حالات میں تہجد کو مستحب قرار دے کر اس کی طرف توجہ نہیں دلائی گئی یہ رات کے حالات میں ہے پھر دن کے حالات میں کہا کہ کام کرو۔رات کے حالات میں کہا کہ اس کو ہم نے تمہارے لئے آرام اور سکون اپنی طاقت کے بحال کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔جہاں تک ہمارے