خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 446
خطبات ناصر جلد سوم ۴۴۶ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء کہاں سے آگھی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ گندی زبان اور بخش کلامی سے ثواب حاصل ہوتا ہے حالانکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے جس کی شارحین نے بڑی وضاحت سے یہ تشریح کی ہے کہ ہر وہ شخص جو نماز مسلمانوں کی قبلہ رُخ ہو کر پڑھنے والا اور ہماری طرح ذبیحہ کھانے والا ہے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے یہ عہد لیا ہے کہ اس کی جان اور مال اور عزت کی حفاظت کی جائے گی اور جو شخص اس کی جان اور مال اور عزت کی حفاظت نہیں کرتا۔وہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور آپ کے اسوہ اور قرآن کریم کی ہدایت کے خلاف کرتا ہے آپ نے بڑی تاکید سے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا عہد ہے اس کو نہ توڑ ناور نہ کیا ہوگا ؟ آگے کچھ نہیں فرما یا کیونکہ ہر عقلمند آدمی جانتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا عہد توڑتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس سے جو معاملہ کرتا ہے وہ مالک ہے۔انسان کو تو لرزاں اور ترساں اپنی زندگی کے دن گزار نے چاہئیں۔شارحین نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَةُ اللَّهِ وَذِمَّةٌ رَسُولِه میں ذِمَةُ اللهِ اور ذِمَةُ رَسُولِہ کے معنے یہ ہیں کہ آمَانُهُمَا وَعَهْدُهُمَا “ یعنی ایسا انسان اللہ تعالیٰ اور رسول کی حفاظت اور امان میں اور اللہ تعالیٰ اور رسول نے جو عہد کیا ہے اس عہد کے اندر آ جاتا ہے۔پھر فَلَا تُخْفِرُوا اللهَ فِي ذِمَّتِہ کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ لا تَخُونُوا اللهَ فِي عَهْدَہ۔اللہ تعالیٰ نے ایک عہد باندھ دیا ہے اس میں خیانت نہیں کرنی اور وَلَا تَتَعَرَّضُوا في حقہ جو حق اس کا قائم کیا گیا ہے۔اس میں تعرض نہیں کرنا اور اس کو ضائع کر کے فساد کے حالات نہیں پیدا کرنے۔علاوہ ازیں اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ مِنْ مَالِهِ وَدَمِهِ وَعِرْضِهِ اس کے مال کی حفاظت بھی اور اس کی جان کی حفاظت بھی اور اس کی عزت کی حفاظت بھی تمہارے ذمہ ہے۔یعنی پس وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا (ال عمران : ۱۰۴) میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی ہی حسین اور وسیع تعلیم دی ہے اور اگر اُمت مسلمہ اس پر عمل کرے اور یہی خدا اور اس کا رسول چاہتے ہیں تو پھر ایک ایسی حسین فضا اور معاشرہ پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ “بھائی بھائی میں اختلاف ہوتا ہے میاں بیوی میں اختلاف