خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 447

خطبات ناصر جلد سوم ۴۴۷ خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۷۰ء ہوتا ہے ماں بیٹی میں اختلاف ہوتا ہے باپ بیٹے میں اختلاف ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے اپنی ہر خلق میں اپنی ایک شان ظاہر کی ہے کثرت مزاج انسانی وحدت خالقِ انسانی ثابت کرتی ہے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ تمہاری طبیعتوں ، مزاج اور عادات کے اندر اختلاف تو ہوتا ہے مثلاً کھانے میں ہزار اختلاف ہوتا ہے جس خاندان میں کھانے والے افراد زیادہ ہوں وہاں بڑی مشکل پڑ جاتی ہے اور کئی دفعہ بعض نا سمجھوں کو اعتراض کا موقعہ بھی مل جاتا ہے مثلاً ایک زمانے میں ( خدا کرے اب بھی جماعت اس طرف متوجہ ہو ) ایک کھانے کا حکم تھا اب جہاں دس بچے ہوں وہاں بعض کی پسند اور ہوتی ہے اور بعض کی اور چنانچہ اس حکم کی رو سے ہر شخص کھائے گا تو ایک ہی کھانا لیکن گھر میں کھانے ایک سے زائد پکیں گے مثلاً میں بینگن نہیں کھاتا، اب یہ جو پچپن کی عادت ہے (اُس وقت تو جوانی کی عمر تھی جب یہ ایک کھانے کا حکم ہوا تھا) اس کی وجہ سے گھر میں صرف بینگن نہیں پک سکتا یعنی اگر مجھے بھی گھر والوں نے کھانا دینا ہے تو وہ صرف بینگن نہیں پکا سکتے انہیں کچھ اور بھی پکانا پڑے گا میرا ایک بیٹا ہے وہ گوشت نہیں کھاتا اور اس کے لئے ہمیں آلو اور اس قسم کی کوئی دوسری چیز تیار کرنی پڑتی ہے بعض دفعہ تین تین چیزیں ایسی ہو جاتی ہیں کیونکہ خاندان کا کچھ حصہ ایک چیز نہیں کھاتا ، دوسرا ایک اور چیز نہیں کھاتا، اور تیسرا کوئی اور چیز نہیں کھا تا البتہ ہر ایک آدمی ایک چیز کھا رہا ہوتا ہے لیکن جو آدمی باہر سے آئے وہ یہی کہے گا کہ تمہارے دستر خوان پر تین قسم کے کھانے رکھے ہوئے ہیں تفصیل کا اسے علم نہیں ہوگا۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بدظنی میں نہ پڑو۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عادتوں کے لحاظ سے بھی اختلاف پیدا ہوگا اور بعض لوگوں کو میرے بعض احکام اور حدیثیں ملیں گی اور بعض کو دوسری ملیں گی یہ جو فقہی اختلافات ہیں یہ زیادہ تر اسی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں لیکن اس اختلاف کے نتیجہ میں امت میں زحمت نہیں ظاہر ہونی چاہیے بلکہ رحمت ظاہر ہونی چاہیے اور وہ رحمت تبھی ظاہر ہوسکتی ہے کہ سارے مسلمان متحد اور ایک جان ہو جائیں اور خدا اور اس کے رسول کے عاشق ، فدائی اور جاں نثار بن جائیں یہ ایک بڑا عجیب سبق ہے جو امت محمدیہ کو اختلافات کے بد نتائج سے بچنے کے لئے دیا گیا ہے کہ