خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 379

خطبات ناصر جلد سوم ۳۷۹ خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء تیسرا تقاضا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا قرآن کریم نے یہ بیان کیا ہے که لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كثيرا۔(الاحزاب : ۲۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ انسان کو صحیح الفطرت پیدا کیا گیا ہے بہت سے انسان جن کی جسمانی فطرت مسخ ہو چکی ہو ان کے دل میں فطری اور طبعی طور پر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ان سے تعلق پیدا ہو جائے اور اس زندگی کے بعد جو دوسری زندگی انسان کو ملنے والی ہے یعنی اخروی زندگی اس کی خوشحال زندگی بنے اور اس کی طبیعت اندر سے یہ بتا رہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لئے اور آخرت کی نعماء کا وارث بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا ایسے لوگوں کی فطرتی آواز کو قبول کرنے کے لئے اور ان کے مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے ہم دنیا میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر خدا کی رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہو جو تمہاری فطرت کی آواز ہے، اگر تم اخروی زندگی کی نعماء پانا چاہتے ہو ، اگر تم خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ کا مظہر بننا چاہتے ہو تو تمہارے لئے صرف ایک راستہ کھلا ہے اور وہ راستہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے پس تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو ، آپ کے اسوہ حسنہ کو اپناؤ۔جس راستہ پر آپ چلے اس راستہ پر قدم رکھو۔جن را ہوں کو آپ نے چھوڑا انہیں ترک کر دو۔آپ کا رنگ اپنے نفسوں پر چڑھاؤ۔آپ کی محبت میں اپنی طبیعتوں کو فنا کر دو چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہیں اس لئے جب تم اس رنگ میں رنگین ہو جاؤ گے تو اپنی قوت اپنی فطرت اور استعداد اور اپنے مجاھدہ اور کوشش کے مطابق تمہارے اوپر بھی وہ رنگ چڑھ جائے گا اور اس طرح تم خدا تعالیٰ کی رضا کو بھی حاصل کر لو گے اور اُخروی زندگی کو بھی حاصل کر لو گے۔اس آیت میں جہاں تک میں نے غور کیا ہے خصوصاً اس مضمون کے ضمن میں جو میں بیان کر رہا ہوں اس ورلی زندگی کی نسبت اُخروی زندگی کی نعماء پر زیادہ زور دیا گیا ہے چونکہ یہ عارضی زندگی ہے اور بڑی چھوٹی زندگی ہے اور اسی پر بناء ہے جنت کی نعماء کے حصول کی۔اگر انسان اس دنیا میں اندھا ہے تو اس دنیا میں اسے آنکھ نہیں مل سکتی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اخروی زندگی کے نعماء کے حصول کے لئے ضروری ہے