خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 380
خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۰ خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء کہ تم صفات باری کے مظہر بنو اور اپنی استعداد کے دائرہ میں صفات باری کا مظہر بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرو۔یہاں دراصل دو باتوں پر غور کرنے کی بنیادی تعلیم دی گئی ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرو۔دوسرا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات حسنہ پر غور کرو۔پھر تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہیں اور یہ کہ تمہیں خدا تعالیٰ کی رضا آپ کی پیروی اور اتباع اور آپ کا رنگ اپنی طبیعت پر چڑھانے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔تو جو شخص اُخروی زندگی کے لئے جس کو ہم نہ ختم ہونے والی زندگی کہتے ہیں کوشش کرے گا اس کی یہ دنیاوی زندگی خود بخو دسدھر جائے گی وہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر لے گا لیکن اس آیہ کریمہ میں زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ اپنی اُخروی زندگی کی فلاح اور بہبود کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور اس کا یہی راستہ ہے جب قرآن کریم نے یہ کہا کہ کامل حق کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکے تو اگر تم بھلائی اور خیر چاہتے ہو تو تمہیں آپ کے دعوی کو بھی اور آپ کی ہدایت کو بھی قبول کرنا پڑے گا اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنا پڑے گا۔سواس کا ایک تقاضایہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی ضروری ہے تم اس کے بغیر نہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہو اور نہ اُخروی زندگی کی نعماء کو حاصل کر سکتے ہو۔چوتھی بنیادی بات جو اِیمَانُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا تقاضا ہے یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ اللہ کا محبوب بن جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : - قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ - ( آل عمران : ۳۲) میرے نزدیک وہاں اسوۂ حسنہ پر زیادہ زور دیا گیا تھا اور اُخروی زندگی پر اور یہاں زیادہ زور بنیادی طور پر ورلی زندگی پر دیا گیا ہے زمانہ کی تخصیص کے لحاظ سے یہ حصہ پہلے لے لینا چاہیے تھا لیکن اہمیت کے لحاظ سے ابدی حیات بہت زیادہ اہم ہے اس لئے میں نے اسے پہلے لے لیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں اس دنیا میں محبوب الہی بنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ