خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 378

خطبات ناصر جلد سوم ۳۷۸ خطبہ جمعہ ۱۶/اکتوبر ۱۹۷۰ء ایک تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس معنی میں خَاتَمَ النَّبِيِّينَ مانا جائے کہ کوئی روحانی برکت اور آسمانی فیض آپ کی وساطت اور آپ کے طفیل کے بغیر انسان حاصل نہیں کر سکتا۔دوسری بنیادی چیز اور اہم تقاضا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے تعلق رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ اس دنیا کی حقیقی زندگی آپ کے بغیر انسان حاصل نہیں کر سکتا۔قران کریم نے بڑی وضاحت سے یہ دعویٰ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ انفال میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُم (الانفال: ۲۵) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت حیات بخش ہے ، اس آیت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ آپ کی اطاعت کرنا آپ کی بات کو ماننا، آپ کے کہنے پر چلنا حیات بخش ہے یعنی اس سے زندگی حاصل ہوتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ جو شخص آپ کی بات قبول نہیں کرتا اور آپ کی اطاعت کا جوکا اپنی گردن پر رکھنے کے لئے تیار نہیں وہ حقیقی حیات اور سچی زندگی سے محروم ہے۔پس معلوم ہوا کہ جولوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانتے نہیں ان میں جو زندگی ہمیں نظر آ رہی ہے وہ اس زندگی کے مانند اور مشابہ ہے جو چھپکلی کی دم میں ہوتی ہے جب دم اپنے جسم سے کٹ جاتی ہے تو کئی منٹ تک وہ ہلتی رہتی ہے اس میں حرکت ہے اور اس میں بظاہر زندگی کے آثار ہیں لیکن حقیقی زندگی نہیں ہے اس کو ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ جب دُم کٹ گئی تو اس دم کی کیا زندگی ہے۔بعض دفعہ پندرہ پندرہ منٹ تک چھپکلی کی دم اپنے جسم سے کٹنے کے بعد زندگی کے مشابہ ایک چیز ظاہر کرتی ہے اور انسان اسے بخوبی سمجھتا ہے جو زندگی ابو جہل کی ہمیں نظر آتی ہے یا جوزندگی فرعون کی ہمیں نظر آتی ہے یا جو زندگی دوسرے ان لوگوں کی ہمیں نظر آتی ہے جنہوں نے خدا تعالی کی آواز کو ٹھکراتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے مقابلہ میں گزاری ہے وہ چھپکلی کی دم کی زندگی ہے اس سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی اس لئے کہ زندگی جن چیزوں کا مجموعہ ہے وہ اس زندگی میں ہمیں نظر نہیں آتی لیکن یہ خود ایک مستقل اور لمبا مضمون ہے میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاسکتا۔اصولاً میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حقیقی زندگی پانے کے لئے اور ابدی حیات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہنے والے ہوں۔