خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 377

خطبات ناصر جلد سوم ۳۷۷ خطبہ جمعہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء برکتوں کا سر چشمہ آپ کے وجود کو سمجھا جائے۔اسی لئے احادیث میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہوا ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ حضرت آدم یا حضرت نوح یا حضرت ابراہیم یا حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہم السلام نے آسمانی برکات کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض روحانی کے بغیر حاصل کیا اور یہ کہ دیگر انبیاء جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے ان کا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں تھا آپ نے فرمایا کہ میں آدم سے بھی پہلے نبی اور خَاتَمَ النَّبِيِّينَ تھا اور اس طرح ہمیں یہ سمجھایا کہ حضرت آدم کو بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احتیاج تھی حضرت نوح حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ حضرت عیسی علیہم السلام اور وہ جو کہتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء دنیا کی طرف مختلف اوقات میں اور مختلف قوموں میں مبعوث ہوئے ان تمام انبیاء کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض روحانی کی احتیاج تھی۔آپ کے بغیر وہ روحانی درجات کو حاصل نہیں کر سکتے تھے اور آپ کی جسمانی بعثت کے بعد امت محمدیہ میں اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب جو اس کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ جس کثرت سے ہم سمندر کا پانی بھی ہم نہیں دیکھتے ، وہ بھی ہر برکت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کرنے والے تھے اور ان کے وجود کا ہر ذرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والا تھا نہ آپ سے پہلے اللہ کے ایسے محبوب گزرے نہ آپؐ کے بعد اللہ تعالیٰ کے ایسے محبوب ہوئے جنہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا افاضہ روحانی کی احتیاج نہ ہو ، ہر ایک محتاج تھا آپ سے برکات کے حصول کا ، ہر ایک نے اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندرجتنا اس کا ظرف تھا ، جتنا اس کا پیالہ تھا اتنا اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سے بھر لیا اور خدا کا پیارا ہو گیا پس اس معنی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی تاکید کی گئی ہے ہر شخص کے دل میں یہ یقین ہونا چاہیے کہ کوئی روحانی برکت یا حقیقی جسمانی فیض حاصل نہیں ہوسکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق نہ ہو باقی ظاہر میں دنیوی لحاظ سے بعض کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہ عارضی خوشیاں ان مسرتوں کے مقابلہ میں نہیں رکھی جاسکتیں جو ایک عاجز انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضۂ روحانی سے اپنے رب سے حاصل کرتا ہے۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا