خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 376
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۶/اکتوبر ۱۹۷۰ء آپ غور اور تدبر سے مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ مضمون بڑی وسعت اور بڑی وضاحت اور بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب ایمان لانے کو کہا جاتا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہوتی ہے۔محض یہ کافی نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں یا محض یہ کہ دینا کافی نہیں کہ ہم آخرت پر ایمان لائے محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے اور یہ سمجھ لینا کہ ہم اس طرح اپنی ذمہ داری کو پورا کر چکے ہیں درست نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اللہ کے نزدیک کب صحیح اور درست ہوتا ہے؟ ابھی میں نے بتایا ہے میں اس تفصیل میں تو نہیں جا سکتا جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی انسان بھی اس کی کامل تفصیل میں نہیں جا سکتا کیونکہ ہر صدی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و احسان کے نئے جلوے بنی نوع انسان کے سامنے پیش کرتی ہے بہت کچھ ہمارے بزرگوں نے کہا مختصر سا میں جلسہ سالانہ کی تقریر میں بھی دوسری تقاریر میں بھی اور خطبات میں بھی کہہ چکا ہوں۔اس وقت میں چار باتیں یا یوں کہو کہ ایمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چار تقاضوں کے متعلق بیان کروں گا۔قرآن کریم نے اصولی طور پر تو ہمیں یہ کہا ہے کہ کامل حق کے ساتھ ہمارے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہاری طرف مبعوث ہو چکے فَا مِنُوا پس آپ پر ایمان لا وَخَيْرا لکھ دین اور دنیا کی بھلائی تم اس میں پاؤ گے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو اس مضمون کی یاد دھانی کراتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے الہام کیا :۔،، "كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ یعنی ہر خیر اور برکت کا سرچشمہ حقیقی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔آپ کے علاوہ کہیں بھی دین یا دنیا کی حقیقی بھلائی انسان حاصل نہیں کر سکتا تو جہاں بہت سی آیات میں آپ پر ایمان لانے کا ذکر ہے میں نے ان میں سے یہ آیت اس لئے منتخب کی ہے کہ اس میں یہ اصول بتایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ تا تم ہر قسم کی خیر اور بھلائی پاؤ۔پس قرآن کریم اور احادیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر ایمان لانے کا ایک تقاضا یہ ہے کہ آپ کو خَاتَمَ النَّبِيِّينَ “ سمجھا جائے اور تمام روحانی