خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 375
خطبات ناصر جلد سوم ۳۷۵ خطبہ جمعہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے چار بنیادی تقاضے خطبه جمعه فرموده ۱۶ /اکتوبر ۱۹۷۰ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ پڑھی۔يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَا مِنُوا خَيْرًا لَكُمْ - (النساء : ۱۷۱) پھر فرمایا۔ایک سلسلہ خطبات کا میں ” اپنے ایمانوں کو مضبوط اور مستحکم کرو“ کے مضمون پر دے رہا ہوں۔قبل اس کے کہ میں آج کے خطبہ کا مضمون بیان کروں میں دوستوں سے دعا کی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔پچھلی گرمیوں میں کچھ بے احتیاطی ہو گئی اور میرے خون میں شکر معمول سے زیادہ ہو گئی۔پہلے قریباً دو سال ہوئے اس سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے بغیر کسی علاج کے اس وقت صحت دے دی اور خون کی شکر معمول پر آگئی۔دوست دعا کریں کہ اب بھی اللہ تعالیٰ اس عاجز بندے پر رحم فرمائے اور صحت عطا کرے حقیقی شافی وہی ہے۔ایمان کے مختلف تقاضے ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے کیا ہے بعض تقاضوں کے متعلق میں اپنے پچھلے خطبات میں مختصراً بتا چکا ہوں آج ایمان کے جس تقاضے کے متعلق میں بات کرنا چاہتا ہوں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہے۔قرآن کریم کا اگر