خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 351
خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۱ خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء جس قسم کی قربانیوں کا میں مطالبہ کر رہا ہوں تم وہ قربانیاں دے نہیں سکتے جب تک کہ دار آخرت پر تمہارا ایمان پختہ نہ ہو۔پس نوجوان نسل کو بھی اور بڑوں کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے اس ( دار آخرت پر ایمان کو بھی پختہ کرو میرا اس سلسلۂ خطبات کا عنوان یہی ہے کہ اپنے ایمانوں کو پختہ کرو اور مستحکم بناؤ دار آخرت پر ایمان کو بھی پختہ کرو اور جب دار آخرت پر ایمان پختہ ہو جائے تو یہ دنیا جو عارضی دنیا ہے اور اس کی جو لذتیں ہیں اور اس کی جو عزتیں ہیں وہ عارضی اور بے وفائی کا جامہ پہنے ہوئے ہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے پھر جو اس دنیا کی چھوٹی سی زندگی ہے اس کے آخر تک انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتیں حاصل کرتا رہتا ہے لیکن یہ دنیا و فانہیں کرتی۔عام طور پر ۳۰ سال، ۵۰ سال، ۷۰ سال، ۸۰ سال، ۹۰ سال یا شاید کوئی ۱۰۰ سال تک بھی پہنچتا ہو پھر دنیا اس کو چھوڑ دیتی ہے اور انسان کے مادی جسم کو پھر اپنے پیٹ میں واپس بلا لیتی ہے پس دنیا تو وفا نہیں کرتی لیکن جس وقت یہ دنیا انسان کے جسم کو پھر مٹی بناتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایک اور جسم دے دیتا ہے اور پھر جب ضرورت پڑتی ہے زیادہ سے زیادہ اور ظاہر سے ظاہر نعمتوں کے حصول کی تو اللہ تعالیٰ ایک تیسرا جسم دے دیتا ہے۔غرض یہ دنیا ہے کیا ؟ ۷۰ سالہ آدمی سے آپ پوچھیں تو وہ بھی یہی کہے گا کہ پتہ نہیں لگا دو چار دن میں عمر ختم ہوگئی ہر ایک نو جوان اپنی سادگی میں یہ سمجھتا ہے کہ اس کے سامنے ۵۰-۶۰ سال طبعی عمر کے پڑے ہیں ویسے تو انسان ہر عمر میں فوت ہوسکتا ہے لیکن ایک طبعی عمر بھی ہے لیکن جو اپنی طبعی عمر گزار چکا ہے جب وہ اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو اسے نظر آتا ہے گویا وہ ابھی پرسوں ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اس کی زندگی پر ایک زمانہ گزر چکا ہوتا ہے مگر اسے پتہ ہی نہیں لگتا اس دنیوی زندگی کے مقابلے میں جو دار آخرت کی زندگی ہے وہ تو ابدی زندگی ہے جس نے کبھی ختم ہی نہیں ہونا اور جو اُخروی انعامات ہیں ان میں کوئی Monotony ( منوٹونی ) نہیں ہے یعنی وہاں ایک ہی چیز نہیں ہوگی جس سے طبیعت اکتا جائے۔حدیثوں میں اس کے متعلق بڑی تفصیل سے ذکر موجود ہے ایک نعمت کے بعد دوسری نعمت دور سے سامنے آجائے گی اور پھر جنتی کہیں گے اے خدا! یہ نعمت ہمیں عطا کر۔چنانچہ انہیں