خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 352
خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۲ خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء درجہ بدرجہ پہلے سے زیادہ لذیذ اور مسرت پہنچانے والی نعمتیں ملتی چلی جائے گی کیونکہ ان کا تعلق نور سے ہے۔( اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ ) یعنی اس کے فضلوں اور اس کے پیار اور اس کی رضا کے جلووں کے ساتھ ہے قرآن کریم نے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی یہی تفسیر کی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ایک دوسری طرف اشارہ کر کے کہ 66 اتهم لَنَا نُورَنَا ، یعنی جس وقت ایک روحانی لذت routine ( روٹین ) کا ایک حصہ بننے لگے گی تو سامنے ایک اور نور آجائے گا، اللہ تعالیٰ کے نور کا ایک زیادہ حسین جلوہ نظر آنے لگے گا تو انسان کہے گا اے ہمارے خدا! آتهِمُ لَنَا نُورَنَا ہمیں اس سے بھی بڑھ کر نور اور اپنا پیار عطا کر ، اپنی رضا کے جلووں سے ہمیں سرور بخش۔اسی طرح دوزخیوں کا حال ہے کہ جب وہ عادی ہونے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ان کی جلد میں بدل دوں گا۔جلد جس کا ذریعہ ہے یہ محاورہ ہے جو بھی جلد وہاں ہوگی یعنی جو بھی جس کا ذریعہ ہو گا جب عادت پڑنے لگے گی تو جلد بدل دی جائے گی مثلاً یہ جو تنور پر روٹیاں لگانے والے ہوتے ہیں ان کے چہروں کے چمڑے کو عادت پڑ جاتی ہے دوسرا اگر دو روٹیاں لگانے کے لئے تنور میں جھکے تو اس کا منہ جل جائے لیکن نانبائی ایک وقت میں روٹیاں لگانے کے لئے ہزار دفعہ تنور کی آگ میں جھکتا ہے۔یہی حال باورچی کا ہے۔مجھے یاد ہے بچپن کے زمانے میں میں یہ دیکھ کر حیران ہوتا تھا کہ وہ آرام سے سرخ کو سلے ہاتھ سے اٹھا کر دوسری طرف رکھ دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کی جلد سخت ہو چکی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوزخیوں کی جلد سخت نہیں ہونے دی جائے گی جب ان کو اس سزا کے جھیلنے کی عادت پڑنے لگے گی تو ان کی جلد نرم کر دی جائے گی تاکہ ان کا علاج ہو سکے لیکن جنتیوں کے متعلق ایسا نہیں ہو گا مثلاً نیند ہے۔آدمی ہر روز سوتا ہے اور نیند تو دراصل انسان کو بڑی سکون پہنچانے والی الہی نعمت ہے نیند کا ہونا ایک بڑی عجیب نعمت ہے لیکن ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا نہ نیند کا نہ اس کی لذت کا ہم روز سوتے ہیں إِلَّا مَا شَاء اللہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نیند سے بہت پیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے وہ سمجھتے ہیں اگر آٹھ دس گھنٹے روزانہ سوئیں تو تب انہیں اس دنیا کی زیادہ لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے البتہ ایسے لوگ