خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 350
خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۰ خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء نعماء حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اگر تم کوشش کرو گے اور اس کے مطابق ایمان رکھو گے اگر تم خواہش کرو گے اور پھر کوشش کرو گے اور آخرت پر پختہ ایمان رکھو گے تو تمہاری سعی اور تمہارا مجاہدہ قبول ہو گا اور اللہ تعالیٰ بھی بندوں کی طرح شکر گزار ہو گا ویسے اللہ تعالیٰ کی ذات تو ارفع اور اعلیٰ ہے وہ ہمیں سمجھانے کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ اے لوگو! اگر تم دار آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے اُخروی نعماء کے حصول کے لئے کوشش اور مجاہدہ کرو گے تو تمہاری سعی عند اللہ مشکور ہوگی اور مشکور میں دراصل یہ اشارہ بھی ہے جو تمہیں وعدے دیئے گئے ہیں اس سے بھی زیادہ دے دیں گے۔ہماری جماعت کو اس وقت غلبۂ اسلام کے لئے قائم کیا گیا ہے اور ہمیں بڑی عظیم بشارتیں دی گئی ہیں۔اس دنیا کی بشارتیں بھی ہیں اور اُخروی زندگی کی بشارتیں بھی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اُخروی زندگی کی سب سے بڑی بشارت تو یہ دی گئی ہے صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں آئے تھے ان کے انعامات بہر حال دوسروں سے زیادہ ہیں۔یہ جو ایک جان اور دو قالب والا قصہ ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہدی معہود علیہ السلام کا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح آپ کی تربیت پانے والے گروہ نے انتہائی تربیت حاصل کر کے انتہائی قربانیاں دیں اور اللہ تعالیٰ کے انتہائی فضلوں کو حاصل کیا یہی دروازہ تمہارے لئے بھی کھلا ہے اس میں بڑی عظیم بشارت ہے اس دنیا کے لئے بھی اور اصل تو اس دنیا کے لئے بشارت ہے وہاں اگر اللہ تعالیٰ اپنی جنتوں کے ان حسین حصوں میں ( یعنی وہاں کی جنتوں میں بھی عمل عمل کے لحاظ سے فرق ہے ) اعلیٰ اور ارفع اور حسین تر باغات میں رکھے جن میں صحابہ رکھے جاتے ہیں تو اس سے بڑھ کر اُخروی انعام اور کیا ہوسکتا ہے۔پس غلبہ اسلام کا منصو بہ اللہ تعالیٰ نے تیار کیا ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے اور ہمیں اس دنیا کے لئے بھی اور اُس دنیا کے لئے بھی بشارتیں دے کر ذمہ واریوں کی طرف متوجہ کیا ہے اور ہم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ہمیں اپنے فضل سے یہ گر بتادیا ہے کہ