خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 294

خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۴ خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۷۰ء سارے تربیت یافتہ تھے جو شہید ہوئے اور ان میں ایک سو بدری صحابی تھے جب کہ بدری صحابہ کی کل تعداد ۳۱۳ ہے جن میں سے کچھ اس سے پہلے فوت بھی ہو چکے ہونگے بہر حال یرموک کی جنگ میں ایک سو بدری صحابی شہید ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اُخروی زندگی پر انہیں اس قدر پختہ ایمان تھا کہ میں نے کئی دفعہ سوچا ہے کہ وہ لوگ اس دنیا سے اُس دنیا کی طرف اس قدر خوشی اور آسانی کے ساتھ انتقال کر جاتے تھے کہ شاید ہمیں اس سے زیادہ بوجھ محسوس ہوتا ہو اپنے سونے والے کمرے سے بیٹھنے والے کمرے تک پہنچنے میں کوئی فرق ہی نہیں تھا جس طرح نائیلون کا پردہ بیچ میں پڑا ہو دو زندگیوں میں تو کہتے کچھ نہیں اس پردے کے سامنے سب کچھ نظر آرہا ہے کوئی پر واہ ہی نہیں تھی یہ ایمان چاہیے اور وعدہ بڑا ز بر دست ہے اللہ تعالیٰ نے اسی لئے فرمایا ہے کیونکہ بعض نے شہید ہونا تھا۔لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى (ال عمران : ۱۱۲) تمہیں تھوڑی سی تکلیف اجتماعی زندگی کے لحاظ سے پہنچے گی یعنی یرموک کے شہداء جن میں ایک ہزار صحابی اور ۴۔۵ ہزار دوسرے مسلمان شہید ہوئے اور ان کے مقابلے میں دشمن اپنی وہاں ستر ہزار لاشیں چھوڑ کر بھاگا تھا کوئی مقابلہ ہی نہیں جو ایذاء ان کو اس میدان میں پہنچی اس کے مقابلے میں جو مسلمانوں کو قربانی دینی پڑی اس کے متعلق بغیر کسی حاشیہ آرائی یا مبالغے کے یہ کہا جا سکتا ہے لَن يَضُرُّوكُم إِلَّا أَذًى۔تمہیں تکلیف پہنچے گی لیکن اس کے بدلے میں تمہیں اتنی زبردست فتح ملے گی کہ تمہاری تکلیف یا تمہاری قربانی یا تمہارے آدمیوں کی تعداد جو شہید ہوئے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھے گی اور یہ وہ جنگ تھی جس نے روم جیسی بڑی سلطنت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تھی اس سے پہلے بھی معمولی جنگیں ہوئیں، بعد میں بھی ہوئیں لیکن یہاں تو بعض کے کہنے کے مطابق اڑھائی لاکھ رومی اکٹھا ہوا ہوا تھا انہوں نے یہاں اپنی آخری بازی لگائی تھی یا ہاریں گے یا ہماری سلطنت تباہ ہوگی اور کوئی بچ کر گیا ہے؟ آدمی تاریخ پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے عقل تیز ، فراست تیز تلوار کی دھار تیز ، گھوڑوں کی جہت تیز ، نیزوں کی آئی تیز ہر چیز میں تیزی آئی ہوئی تھی۔اس کے مقابلے میں ان کی عقلیں ماری ہوئیں دلوں کے اندھیرے سمجھ نہیں آتا تھا خود بھاگ کر ایسی جگہ پہنچ گئے کہ جہاں ڈھلوان کوئی نہیں تھی اور جب پیچھے سے مسلمانوں کا دباؤ پڑا تو ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہوئے پہاڑی پر سے نیچے