خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 295 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 295

خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۵ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء گرتے گئے اور مرتے چلے گئے ورنہ چند ہزار کا ستر ہزار آدمیوں کو قتل کرنے کے لئے تلواریں چلانے سے بھی شاید بہتوں کے پٹھے ہمیشہ کے لئے بیمار ہو جاتے لیکن آپ ہی اپنی موت کا سامان بن گئے بھاگے تو ادھر بھاگے، یہ ٹھیک ہے کہ حضرت خالد کی فراست تھی انہوں نے خاص جہات سے ان پر دباؤ ڈالا تھا لیکن ان کی تو عقل ماری ہوئی تھی ورنہ وہ حضرت خالد کی فراست سمجھ کر دوسری جگہ کا رُخ کر سکتے تھے۔بہر حال اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ایذاء تو تمہیں پہنچے گی لیکن معمولی سی ایذاء ہو گی ان بشارتوں کے مقابلے میں ، ان فتوحات کے مقابلے، میں ان قربانیوں کے مقابلہ میں ، اس پیار کے مقابلہ میں جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہیں نظر آئے گا اس کی رضا کے مقابلہ میں جسے تم حاصل کرو گے کتنے ہیں جو چار پائی پر جان دیتے ہیں میں سوچا کرتا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک چار پائی ہے کیونکہ سب سے زیادہ اموات چار پائی پر ہوتی ہیں۔جنگوں میں خصوصاً پچھلی دو عالمگیر جنگوں میں بڑی قتل و غارت ہوئی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ چھ ماہ میں چار پائی پر مرنے والوں کی تعداد ان مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے جو ان جنگوں میں مارے گئے۔پس مرنا تو ہر ایک نے ہے سوال یہ ہے کہ کیا تم نے چار پائی پر مرنا ہے؟ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ایک آدمی باہر سے بڑا ہنستا کھیلتا آتا ہے بیوی سے کہتا ہے کہ میرے کھیت بڑے اہرا رہے ہیں۔بڑی آمد ہوگی بیوی پانی لے کر آتی ہے وہ پانی پیتا ہے قولنج ہوتی ہے اور وہیں اس کا دم نکل جاتا ہے۔چار پائی پر آرام کرنے کے لئے بیٹھے تھے اور وہاں سے جنازہ اٹھ گیا پس اگر تو زندگی اور موت میرے یا آپ کے ہاتھ میں ہو تو پھر آپ کو یہ اختیار بھی ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہم موت پر زندگی کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر آپ کے ہاتھ میں زندگی اور موت نہیں اور یقینا آپ کے ہاتھ میں زندگی اور موت نہیں تو پھر کس پر کس چیز کو ترجیح دینے کا اپنے آپ کو حق دار یا اہل سمجھتے ہو۔حماقت ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں منافقوں نے کہا تھا کہ وہ موت سے بچ کر واپس جارہے ہیں اللہ تعالیٰ نے کہا کہ موت تو تمہیں آکر پکڑے گی جہاں مرضی چلے جاؤ ان میں سے کون بچا؟ ایک طرف ذلت کی موت ہے ایک طرف عزت کی زندگی ہے اور عزت کی موت ہے۔عزت