خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 293
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۳ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا چاہتے ہو تو چھ سو سے زائد حکم جو قرآن کریم میں ہیں تم ہر ایک کی تعمیل کرو اور قرآن کریم کی پوری تعلیم کا جوا ا پنی گردن پر رکھو تب تم ان فضلوں کے وارث ہو گے۔آل عمران کی اس آیت میں یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم ثبات قدم دکھاؤ جو تعلیم دی ہے جو سیدھا راستہ ہے اس سے ادھر ادھر نہیں ہونا خواہ کچھ ہو جائے اس پر تم نے قائم رہنا ہے اور یہ کامل معرفت اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر کامل ایمان کا نتیجہ ہے۔پہلے لوگ جن کے ساتھ آپ اپنے آپ کو فخر کے ساتھ بلا یا کرتے ہیں کہ ہم ان سے مل گئے یعنی ”صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کے ماتحت تو ان کا نمونہ یہ ہے کہ چار چار پانچ پانچ گنا زیادہ فوج سامنے ہوتی تھی ہتھیاروں میں بھی کئی کئی گنا زیادہ اور تعداد میں بھی زیادہ۔بڑی اچھی تلواریں بڑے اچھے نیزے بسا اوقات ایک ایک کے پاس چھ چھ تلواریں ہوتی ہیں مگر ہمارے مسلمانوں کی ایسی بیسیوں مثالیں ہیں کہ تلوار ہا تھ سے چھوٹ گئی تو دوسری تلوار نہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ مددکو آتا۔مد مقابل یعنی دشمن کو کسی نے نیزہ مارا اس کی تلوار اس نے پکڑ لی ورنہ تو وہ موت کے منہ میں اپنے آپکو دیکھتا تھا اللہ تعالیٰ آسمان سے آکر اس کی مدد کرتا تھا اور حفاظت کرتا تھا اور اس کی جان بچ جاتی تھی انہوں نے موت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔الہی سلسلے جو ہیں ان کی جدو جہد اور کشمکش میں جانی قربانی بھی دینی پڑتی ہے اور مالی قربانی بھی دینی پڑتی ہے چونکہ اسلام کی مخالف قوتوں کے ساتھ ہماری دلائل کی جنگ ہے اس واسطے اس قسم کی شہادت کا میدان ہمارے سامنے نہیں آتا لیکن ہم اس سے محفوظ نہیں ہیں ہمارے عبداللطیف صاحب شہید دلائل کی تلوار لے کر گئے تھے اور پتھروں کی نوکوں سے انہیں شہید کر دیا گیا یہ دروازہ کلی طور پر بند نہیں شکل کچھ بدلی ہوئی ہے جب مخالف دلائل سے عاجز آ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اور تو کچھ نہیں بنتا چلو اس کو مار دو۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ ایک کو تم نے جنت میں بھیج دیا اور دس ہزار اس کے مقابلے میں اور پیدا ہو گئے جن میں پہلے اتنی پختگی نہیں تھی جتنی اس شہادت کے بعد پیدا ہوگئی ایک ہزار صحابی " یرموک کے میدان میں شہید ہوا ہے اور یہ وہ صحابی نہیں تھے جنہوں نے ایک دفعہ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور واپس چلے گئے