خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 277 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 277

خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۷ خطبه جمعه ۱۴ /اگست ۱۹۷۰ء کرے گی کہ حضرت صاحب نے میری کچھ مدد کی ہے تو دفتر والوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا لفافہ وہاں چلا جاتا ہے بیسیوں بلکہ سینکڑوں دفعہ ایسا کرنا پڑتا ہے۔اصل بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ وہاں اس قسم کے بھی لوگ ہوں گے جو جذباتی تکلیف میں مبتلا ہوں گے کیونکہ میں اس لحاظ سے خود بڑا جذباتی ہوں مجھے یہ سوچ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے ایسے دل بھی ہوں گے جو ایک دھیلہ بھی کسی سے لینا پسند نہیں کرتے ہوں گے مگر سیلاب کی وجہ سے مجبوری ہے بڑی تکلیف میں ہیں اور ایک مدد ایسی ہے جو ہمارے سوا کوئی نہیں کر سکتا اور دعا کے ذریعہ مدد کرنا ہے اس الہی ارشاد کے مطابق کہ آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ - ان کے اضطرار اور تکلیف میں ہم بھی شامل ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لئے بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی تکالیف کو دور فرمائے اور پھر ان کی خوشی اور مسرت کے سامان پیدا کرے۔دوسرے یہ کہ جیسا کہ حکومت کی طرف سے اعلان بھی ہوا ہے ہمیں دوسرے طریق پر بھی ان کی مدد کرنی چاہیے یعنی مادی امداد بھی دینی چاہیے اور رضا کارانہ خدمت بھی پیش کرنی چاہیے صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے کچھ روپیہ گیا ہے لیکن مختلف جگہ رقمیں اکٹھی ہوتی ہیں ہر جماعت کو چاہیے کہ وہ حسب توفیق بشاشت کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے مالی امداد بھی کرے یعنی آپ روپوں پر بھی دعا کر کے دیں تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان روپوں کے ذریعہ ان کی تکلیف کو دور فرمائے۔جہاں تک رضا کارانہ خدمات پیش کرنے کا سوال ہے میں ذاتی طور پر اس چیز کو پسند نہیں کرتا کہ رضا کا ر ایسوسی ایشن ایسے موقع پر وہاں آزادانہ طور پر کام کریں کیونکہ اس طرح بہت سے فتنے پیدا ہو جاتے ہیں۔نائیجیریا میں جب بیا فرا نے سرنڈر کیا تو میں نے وہاں کی حکومت کو اطلاع دی تھی اور اپنی جماعت کو ہدایت کی تھی کہ تم نے آزادانہ کام نہیں کرنا اپنی سروسز حکومت کو پیش کر دو۔چنانچہ ہمارے سینکڑوں رضا کا ر حکومت کے عام نظام کے ماتحت بیا فرا والے حصوں میں