خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 276
خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء پس ایسے حال میں بعض طبیعتیں اپنا سرمایہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں تکلیف محسوس کرتی ہیں اور دوسروں سے لینا عار محسوس کرتی ہیں لیکن ہزاروں لوگ لینے پر بھی مجبور ہوں گے مجبوری ہے جب بچے بلکتے ہیں تو یہ جذباتی تکلیف بھی اٹھانی پڑتی ہے اور ایسے کئی لوگ ہونگے مجھے اس کا بڑا احساس ہے اسی واسطے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کی بغیر بتائے مدد کرتا ہے وہ بڑا ہی ثواب حاصل کرتا ہے۔صحابہ کرام رات کے اندھیروں میں جا کر دے دیتے تھے ہم بھی کبھی سنت پر عمل کرتے ہیں جسکو کوئی چیز دینی ہو وہ چیز لفافے میں بند کر کے ایسے رنگ میں اس کے پاس پہنچا دیتے ہیں کہ اس کو پتہ ہی نہ لگے یا اگر کوئی دوسرا تکلیف دے تو اسے ایسے رنگ میں معاف کر دیتے ہیں کہ اس کو پتہ ہی نہ لگے۔مثلاً میں بچہ تھا مدرسہ احمدیہ میں پڑھا کرتا تھا مغرب کی نماز مسجد اقصیٰ میں پڑھا کرتا تھا کیونکہ مسجد مبارک میں دیر ہو جاتی تھی حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ تم نے پڑھنا بھی ہے اور پھر سونا بھی ہے اس لئے وہاں چلے جایا کرو ہم تنگ گلی سے گزر کر مسجد اقصی جایا کرتے تھے جس میں رات کو سخت اندھیرا ہوا کرتا تھا ایک دن میں نیچے اترا تو مدرسہ احمدیہ کے طلباء قطار میں نماز پڑھنے کے لئے جارہے تھے میں بھی ان میں شامل ہو گیا اندھیرا تھا میرا پاؤں اگلے لڑکے کے سلیپر پر پڑا اور اسے ٹھوکر لگ گئی خیر وہ چپ کر گیا دوسری دفعہ جب پھر ایسا ہوا تو اس نے پیچھے ہٹ کر مجھے کھینچ کر چھیڑ لگائی میں فوراً پیچھے ہٹ گیا میں نے سوچا آگے روشنی میں جائیں گے تو میری شکل دیکھ کر شاید شرمندگی کی وجہ سے اسے تکلیف ہوگی اس لئے میں اسے یہ تکلیف کیوں دوں چنانچہ میں دس پندرہ قدم پیچھے ہٹ کر ساتھ ہولیا۔مگر اسے آج تک پتہ نہیں کہ کس کے منہ پر چپیڑ پڑی تھی۔گو اس نے اندھیرے میں سہی یا غیر ارادی طور پر سہی لیکن میرا پاؤں غلطی کر رہا تھا میرے پاؤں کو یہ حق تو نہیں تھا کہ وہ دوسروں کو تکلیف دے۔بہر حال کبھی چھپ کر دینا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض ایسی طبیعتیں ہیں جن کا جائز حق ہوتا ہے لیکن وہ دوسرے کے ہاتھ سے لینا پسند نہیں کرتے یا اس کی شہرت نہیں چاہتے ایسے کئی واقعات میرے علم میں ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایسی طبیعت ہے جو یہ ظاہر ہونا پسند نہیں