خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 278

خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۸ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء جہاں ری ہیلی ٹیشن ہونی ہے وہاں کام کر رہے ہیں اور کر چکے ہیں میرے یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن بہر حال حکومت جس رنگ میں چاہے کام کرے اگر کوئی ایسی صورت ہو تو احمدی نوجوانوں کو حسب توفیق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو ہفتے یا چار ہفتے کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کرنی چاہئیں۔خصوصاً ایسے دوست جو ہنر یافتہ ہیں اور ان کے ہنر وہاں کام آسکتے ہیں مثلاً ڈاکٹر ہیں علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور ایسی دوائیوں کا پتہ لگا تو علاوہ روپوں کے انشاء اللہ ایسی دوائیاں بھی وہاں بھجوائیں گے کیونکہ ہم خدا کے فضل سے ایسی دوائیوں کا انتظام کر سکتے ہیں جو یہاں سے نہیں ملتیں یہ صحیح ہے کہ حکومت کے بڑے وسائل ہیں لیکن حکومت کے وسائل پر فارن اینچ خرچ ہوتا ہے ہمارے وسائل بھی ہیں اور حکومت کو فارن ایکسچینج خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ انگلستان کے احمدی وہاں پیسے جمع کر کے وہ دوائی بھجوا سکتے ہیں جو یہاں سہولت سے دستیاب نہیں۔پس ایک تو ان کے لئے بہت دعائیں کریں صرف آپ ہی ان کے لئے حقیقی معنوں میں دعا کر سکتے ہیں، دوسرے مالی امداد دیں اور تیسرے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات بھی حکومت کو پیش کریں۔یہ تو میرے اصل مضمون کی ایک شاخ ہوئی یعنی ڈائی گریشن۔میں بتا یہ رہا تھا کہ جس اللہ پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ وہ اللہ ہے جسے اس کی تمام صفاتِ حسنہ کے ساتھ قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور جس میں کوئی کمی یا نقص یا کمزوری نہیں پائی جاتی وہ متصرف بالا رادہ اور غالب علی آمدہ ہے۔وہ ایک فیصلہ کرتا ہے جس کا باریک فلسفہ ہے لیکن عقلمند کو ہم تسلی دلا سکتے ہیں اور آپ نے تسلی پائی ہوئی ہے زندگی کے موڑ اور یونیورس کی ڈیویلپمنٹ میں ایک اس کے ظاہری قانونِ قدرت کے مطابق نتیجہ نکلتا ہے اور ایک وہ نتیجہ ہے جو اللہ چاہتا ہے کہ نکلے۔کبھی وہ اپنے قانونِ قدرت کے مطابق نتیجہ نکال دیتا ہے اور کبھی معجزانہ طور پر ایک اور حکم نازل کرتا ہے۔پس دعا جو ہے وہ تقدیر کے خلاف نہیں اس کے متعلق تو نو جوانوں کو پھر میں کہوں گا کہ آجکل کے پرفتن ایام میں اور اندھے فلسفہ کے بداثرات کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جو تحریریں دعا کے متعلق ہیں وہ ضرور پڑھ لیں۔میر داؤ د احمد صاحب نے اقتباسات کی کتاب